تحریر:میاں حبیب
جہاں لفظ بے نقاب ہوں۔۔۔ وہیں سے سچ کا آغاز ہوتاہے مشرق وسطی کو تباہی کے دہانے پر پہنچا کر بالاآخر ثالثی کی ضرورت کو محسوس کر لیا گیا ہے اور قرعہ پاکستان کا نکلا ہے کہ سب سے زیادہ اثرات مرتب کرنے والی جنگ جس نے دنیا کی معیشتوں کو ہلا کر رکھ دیا ہے جس سے دنیا توانائی کے بحران کا شکار ہو رہی ہے اور جس جنگ نے سٹاک مارکیٹس میں بھونچال برپا کر رکھا ہے اس کو وائنڈ اپ کرنے کے لیے پاکستان کی کوششیں بار آور ثابت ہو رہی ہیں دراصل پاکستان اس پوزیشن میں ہے کہ اس کا تمام فریقین کے ساتھ قریبی رابطہ ہے تمام فریقین کسی نہ کسی طرح پاکستان پر اعتماد کرتے ہیں اور پاکستان ان فریقین کے ساتھ کھل کر بات بھی کر سکتا ہے اور کسی حد تک ان کی گارنٹی بھی دے سکتا ہے پاکستان کے فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پسندیدہ شخصیت ہیں وزیراعظم میاں شہباز شریف کی بھی وہ تعریف کرتے ہیں اسرائیل کو ہم منہ نہیں لگاتے یہ ہماری قومی پالیسی ہے لیکن اسرائیل کا معاملہ امریکہ کا ہے امریکہ اگر ہاتھ کھینچ لے تو اسرائیل کی کوئی اوقات نہیں وہ جو کچھ کرتا ہے امریکہ کی آشیر باد سے کرتا ہے بلکہ ایران کی جنگ میں تو کہا جا رہا ہے کہ امریکہ اسرائیل کے ہاتھوں بلیک میل ہوا ہے امریکہ اور اسرائیل نے دراصل ایران کو غلط اسٹیمیٹ کیا تھا ان کے تمام اندازے غلط ثابت ہوئے دونوں یہ سمجھتے تھے کہ چند گھنٹوں کی گیم ہے ایران گھٹنے ٹیک دے گا لیکن ایران نے سخت مزاحمت کرکے پوری دنیا کو ورطہ حیرت میں ڈال دیا ہے اس نے سپر پاور کی ہوا نکال دی ہے اب اگلا گھر دیکھ کر سب کو اندازہ ہو گیا ہے کہ جنگ جتنی طویل ہو گی آگے اتنی ہی خوفناک تباہی ہے جنگ بندی کے لیے دنیا بھر سے دباو آ رہا تھا امریکہ کے اتحادی اس کا ساتھ دینے کے لیے تیار نہ تھے امریکہ نے آبنائے ہرمز کھلوانے کے لیے ہر حربہ استعمال کرکے دیکھ لیا نہ تو اس کی کوئی دھمکی گارگر ثابت ہوئی نہ دنیا نے ساتھ دیا نہ آئل اور گیس کی تنصیبات کی تباہی ہی ایران کو قائل کر سکی بلکہ ایران نے ہر حملے کا موثر جواب دیا اگر ایران کی توانائی کے ذخائر کو نشانہ بنایا گیا تو ایران نے بھی خطے کے دیگر ممالک کے توانائی کے ذخائر کو نشانہ بنایا اگر عمارتوں کو نشانہ بنایا تو ایران نے بھی امریکی واسرائیلی عمارتوں اور ٹھکانوں کو نقصان پہنچایا اب آخری حربے کے طور پر امریکہ نے دھمکی دی کہ اگر ایران نے آبنائے ہرمز نہ کھولا تو وہ ایران کے بجلی گھروں کو تباہ کر دے گا آج کل کے دور میں بجلی کے بغیر زندگی کا تصور نہیں بجلی کو بنیادی ضرورت سمجھا جاتا ہے لیکن ایران نے پچھلے چالیس سالوں میں اپنی قوم کو ہرقسم کے حالات سے نمٹنے اور ہرقسم کے حالات میں زندہ رہنے کے لیے تیار کر لیا ہوا ہے لیکن ایران نے اس دھمکی کا جو جواب دیا اس نے ہلا کر رکھ دیا ایران نے کہا اگر ایسا کیا گیا تو ایران خطے کے دیگر ممالک جہاں جہاں امریکی اڈے ہیں ان ممالک کے بجلی گھروں کو اڑا دے گا ان کی انٹرنیٹ تنصیبات تباہ کر دے گا آج کی دنیا میں یہ مکمل تباہی ہے اور دیگر عرب ممالک تو بجلی کے بغیر ایک لمحہ بھی نہیں گزار سکتے اس صورتحال کو دیکھ کر فریقین میں تھوڑی لچک پیدا ہوئی پاکستان پہلے ہی ایران، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور دیگر عرب ریاستوں کے ساتھ رابطے میں تھا پاکستان نے ترکیہ اور مصر کو بھی آن بورڈ کرکے ثالثی کی کوششیں کیں تو پانچ دن کے جنگ کے وقفے پر امریکہ تیار ہو گیا اب اس ثالثی کا مرکزی کردار پاکستان کے پاس ہے اور توقع کی جا رہی ہے کہ فریقین کے درمیان ڈائیلاگ بھی پاکستان میں ہی ہوں گے یہ بھی اطلاعات ہیں کہ پاکستان نے اسرائیل کے ساتھ کسی قسم کے رابط سے انکار کردیا ہے اور نہ ہی ان مذاکرات میں اسرائیل کا کوئی نمائندہ پاکستان آئے گا یاد رہے کہ پاکستان نے اسرائیل کے تمام شہریوں پر پاکستان میں داخلے پر پابندی عائد کر رکھی ہے اسی طرح پاکستان نے اپنے شہریوں پر بھی اسرائیل میں داخلے پر پابندی عائد کر رکھی ہے پاکستانی پاسپورٹ پوری دنیا کے لیے قابل قبول ہے لیکن اسرائیل کے لیے استعمال نہیں ہو سکتا بہر حال پاکستانی قیادت کی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے بھی بات ہو گئی ہے اور ایرانی صدر پزشکیان سے بھی بات ہو چکی ہے پاکستان میں ہونے والے متوقع مذاکرات میں امریکہ کی جانب سے نائب صدر جے ڈی وینس ،وٹکوف،جیرڈکشنر اور ایران کی جانب سے ان کے سپیکر باقر کی سربراہی میں وفد مذاکرات میں شرکت کرے گا اگر پاکستان یہ ثالثی کروانے میں کامیاب ہو گیا اور اس کے نتیجے میں بڑی جنگ رکوا دی گئی تو یہ پاکستان کا بڑا کارنامہ تصور ہو گا پاکستان کی دنیا میں اہمیت دوچند ہو جائے گی اور مڈل ایسٹ میں پاکستان کا کردار بڑھ جائے گا لیکن اس کے ساتھ ساتھ یہ بڑا رسکی کام ہے کیونکہ ڈونلڈ ٹرمپ دنیا کا سب سے بے اعتبارا شخص ہے اس کی دنیا میں کوئی ضمانت نہیں دے سکتا وہ یو ٹرن کا ماہر ہے اس کی کسی بات پر اعتبار نہیں کیا جاسکتا ایسے حالات میں پاکستان اگر فریقین کا گارنٹر بنتا ہے تو پاکستان کے لیے بہت بڑا رسک ہو گا بہرحال بڑے کاموں کے لیے بڑےرسک لینے پڑتے ہیں ہم دعا گو ہیں کہ اس جنگ کا جلد خاتمہ ہو تاکہ دنیا ہیجانی کیفیت سے باہر نکل سکے کاروبار زندگی معمول پر آئے اور انسانیت سکھ کا سانس لے سکے