مسقط (نیوز ڈیسک): مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کے بادل چھٹنے کی ایک بڑی امید اس وقت پیدا ہوئی جب عمان کے دارالحکومت مسقط میں امریکا اور ایران کے اعلیٰ سطح کے وفود کے درمیان جاری مذاکرات کا پہلا دور باقاعدہ طور پر مکمل ہوگیا۔
عالمی سفارتی حلقے ان مذاکرات کو خطے میں پائیدار امن کی جانب ایک تاریخی قدم قرار دے رہے ہیں۔
سفارتی ذرائع کے مطابق، عمان کی ثالثی میں ہونے والے ان خفیہ مگر انتہائی اہم مذاکرات کے پہلے دور میں دونوں ممالک کے نمائندوں نے بنیادی نکات پر گفتگو کی۔
پہلے دور میں بنیادی طور پر اعتماد سازی کے اقدامات، قیدیوں ے تبادلے اور منجمد اثاثوں جیسے معاملات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
اگرچہ باضابطہ اعلامیہ جاری نہیں کیا گیا، لیکن سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ پہلے دور کا ماحول غیر متوقع طور پر دوستانہ اور تعمیری رہا۔
رپورٹ کے مطابق، پہلے دور کے اختتام کے چند ہی گھنٹوں بعد دوسرے دور کا آغاز ہونے والا ہے۔ یہ مرحلہ پہلے دور کے مقابلے میں زیادہ تکنیکی اور حساس نوعیت کا ہوگا ۔ممکنہ طور پر اگلے دور میں درج ذیل نکات پر گفتگو ہوگی۔
ایٹمی پروگرام: 2015 کے معاہدے کی بحالی کے حوالے سے نئی شرائط۔
اقتصادی پابندیاں: ایران پر عائد معاشی پابندیوں میں نرمی کا جائزہ۔
علاقائی سیکیورٹی: شام، یمن اور دیگر علاقوں میں جاری کشیدگی کو کم کرنے کے لیے مشترکہ فریم ورک۔
ان مذاکرات کی خبر سامنے آتے ہی عالمی منڈیوں، خاص طور پر تیل کی قیمتوں میں استحکام دیکھنے میں آیا ہے۔ وائٹ ہاؤس اور تہران دونوں ہی اس وقت انتہائی محتاط رویہ اختیار کیے ہوئے ہیں، لیکن دونوں جانب سے یہ تاثر مل رہا ہے کہ وہ موجودہ تعطل کو ختم کرنے کے لیے سنجیدہ ہیں۔
اگر دوسرا دور بھی پہلے دور کی طرح کامیاب رہا، تو یہ گزشتہ ایک دہائی کی سب سے بڑی سفارتی کامیابی ثابت ہو سکتی ہے۔ اس وقت پوری دنیا کی نظریں مسقط پر لگی ہیں ۔
سلطنتِ عمان ایک بار پھر ایک خاموش مگر موثر ثالث کے طور پر ابھری ہے۔ عمان کی قیادت نے دونوں سخت حریفوں کو ایک میز پر بٹھا کر یہ ثابت کر دیا ہے کہ مذاکرات ہی ہر مسئلے کا واحد حل ہیں۔

