دبئی :ایران اور امریکا کے درمیان جوہری مذاکرات جمعہ کو عمان میں ہوں گے۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کی طرف سے بدھ کو یہ اعلان کئی گھنٹوں کے اشارے کے بعد سامنے آیا ہے جس میں کہا گیا تھا کہ مذاکرات کے فارمیٹ اور مواد میں تبدیلیوں کی وجہ سے متوقع مذاکرات میں تاخیر ہو رہی ہیں۔ اس دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مذاکرات سے قبل ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کو دو ٹوک وارننگ بھیجی۔
ٹرمپ نے این بی سی نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے خامنہ ای کے بارے میں کہا کہ ”میں کہوں گا کہ انہیں بہت فکر مند ہونا چاہیے۔”
ترکی استنبول میں علاقائی ممالک کے ساتھ مذاکرات کی میزبانی کے لیے پردے کے پیچھے کام کر رہا تھا اور بات چیت میں ایران کے بیلسٹک میزائل پروگرام اور دیگر خدشات جیسے مسائل پر توجہ مرکوز کی گئی۔
بدھ کے اوائل میں ایک علاقائی اہلکار نے کہا کہ ایران ایک "مختلف” قسم کی میٹنگ کا خواہاں ہے جو خصوصی طور پر ایران کے جوہری پروگرام کے معاملے پر مرکوز ہو، اس میں شرکت صرف ایران اور امریکا کی ہو۔ اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر یہ جانکاری دی۔
اسی طرح کے مذاکرات کی میزبانی گذشتہ سال عمان نے کی تھی، جس نے ایران اور مغرب کے درمیان ثالث کے طور پر کام کیا۔ یہ مذاکرات بالآخر جون میں اس وقت بلا نتیجہ ختم ہو گئے جب اسرائیل نے ایران کے خلاف 12 روزہ جنگ کا آغاز کیا جس میں امریکا کی جانب سے ایرانی جوہری مقامات پر بمباری بھی شامل تھی۔
وائٹ ہاؤس کے ایک اہلکار جو عوامی سطح پر مذاکرات پر بات کرنے کے مجاز نہیں تھے، نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر تصدیق کی کہ مذاکرات عمان میں ہوں گے۔ عہدیدار نے کہا کہ متعدد عرب اور مسلم رہنماؤں نے بدھ کے روز ٹرمپ انتظامیہ پر زور دیا کہ وہ مذاکرات سے پیچھے نہ ہٹیں یہاں تک کہ ایرانی حکام نے اپنے دائرہ کار کو کم کرنے کے لیے دباؤ ڈالا۔
اہلکار نے مزید کہا کہ وائٹ ہاؤس تا حال مذاکرات کی کامیابی سے متعلق "بہت شک” میں ہے لیکن اس نے خطے میں اتحادیوں کے احترام میں منصوبوں میں تبدیلی کے ساتھ ساتھ چلنے پر اتفاق کیا ہے۔
ایران امریکا جوہری مذاکرات کل عمان میں ہوں گے، ٹرمپ کی خامنہ ای کو وارننگ

