تہران/واشنگٹن (نیوز ڈیسک): مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی ایک بار پھر اپنے عروج پر پہنچ گئی ہے۔ امریکی بحری بیڑے کی آبنائے ہرمز کی جانب پیش قدمی اور ایران کے جارحانہ ردعمل نے خطے میں فوجی توازن کو شدید خطرات سے دوچار کر دیا ہے۔ اس نازک موڑ پر سعودی عرب کے غیر جانبدارانہ موقف نے صورتحال میں ایک نئی سیاسی جہت پیدا کر دی ہے۔
ایران کا ‘لائیو فائر’ انتباہ اور فضائی حدود کی بندش
ایران نے آبنائے ہرمز کے قریب 27 سے 29 جنوری تک تین روزہ بڑے پیمانے کی لائیو فائر فوجی مشقوں کا آغاز کر دیا ہے۔
نو فلائی زون: مشقوں کے دوران 5 ناٹیکل میل کے دائرے میں 25,000 فٹ تک کی بلندی پر ہر قسم کی پروازیں ممنوع قرار دے دی گئی ہیں۔
پاسدارانِ انقلاب کا انتباہ: ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے دوٹوک پیغام دیا ہے کہ اگر کوئی بھی امریکی جہاز ایرانی سمندری حدود کی خلاف ورزی کرے گا تو اسے فوری نشانہ بنایا جائے گا۔ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ "ٹرمپ گفتگو زیادہ کرتے ہیں، لیکن اصل فیصلہ میدانِ جنگ میں ہوگا”۔
امریکی فوجی نقل و حرکت اور اسرائیل کی دھمکی
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تصدیق کی ہے کہ طیارہ بردار بحری بیڑا یو ایس ایس ابراہم لنکن، گائیڈڈ میزائل ڈسٹرائرز اور جدید فضائی دفاعی نظام کے ساتھ ایران کی جانب بڑھ رہا ہے۔
امریکی موقف: صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ان اقدامات کا مقصد ایران کی جوہری صلاحیت کو محدود کرنا اور امریکی مفادات کا تحفظ ہے۔ تاہم، واشنگٹن نے مذاکرات کا دروازہ کھلا رکھنے کی امید بھی ظاہر کی ہے۔
اسرائیل کا ردعمل: اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے سخت لہجہ اپناتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر ایران نے اسرائیل کو نشانہ بنانے کی کوشش کی تو اسے ایسا جواب ملے گا جو تاریخ میں پہلے کبھی نہیں دیکھا گیا۔
سعودی عرب کا تاریخی فیصلہ: "سرزمین استعمال نہیں ہوگی”
اس کشیدہ صورتحال میں سعودی عرب نے ایک اہم اور غیر جانبدارانہ موقف اختیار کیا ہے۔ سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے ٹیلی فونک رابطہ کیا اور واضح کیا کہ:
سعودی عرب اپنی فضائی حدود یا سرزمین کو ایران کے خلاف کسی بھی فوجی کارروائی کے لیے استعمال کرنے کی اجازت نہیں دے گا۔
سعودی عرب ایران کی خودمختاری کا احترام کرتا ہے اور خطے میں استحکام کے لیے مکالمے پر یقین رکھتا ہے۔
ایرانی صدر نے سعودی عرب کے اس اقدام کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے اسلامی ممالک کے درمیان اتحاد اور پائیدار امن کی جانب ایک بڑا قدم قرار دیا ہے۔
مستقبل کی صورتحال
ماہرینِ موسمیات اور دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق، آنے والے چند دن خطے کے مستقبل کے لیے انتہائی اہمیت کے حامل ہیں۔ جہاں ایک طرف بارود کی بو محسوس کی جا رہی ہے، وہیں سعودی عرب کی سفارتکاری تناؤ کو کم کرنے میں کلیدی کردار ادا کر سکتی ہے۔ عالمی منڈیوں میں بھی اس کشیدگی کے باعث تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے بادل گہرے: آبنائے ہرمز میں ایرانی فوجی مشقیں، امریکی بیڑے کی آمد اور سعودی عرب کا بڑا فیصلہ

