تحریر:توفیق بٹ
جہاں لفظ بے نقاب ہوں۔۔۔ وہیں سے سچ کا آغاز ہوتا ہے
کراچی کا گل پلازہ جل کے راکھ ہو گیا‘ کئی افراد بھی اس میں جل کر راکھ ہو گئے‘ سندھ حکومت کی وہ کارکردگی بھی جل کر راکھ ہو گئی جس کے بڑے ڈھنڈورے پیٹے جاتے تھے اور پنجاب کے ساتھ اس کا مقابلہ کیا جاتا تھا‘ مگر سندھ کے حکمران جتنے ڈھیٹ ہیں اس کی بنیاد پر ا±نہیں اب بھی یہ کہنے کا پورا حق حاصل ہے کہ “ہماری کارکردگی کی وجہ سے جانی و مالی نقصان بہت کم ہوا‘ سندھ حکومت‘ کراچی کی انتظامیہ اور آگ بجھانے والے ادارے صرف چند گھنٹوں بعد ہی وہاں پہنچ گئے اور آگ بجھانے کا کام شروع کر دیا‘ وہ اگر آگ لگنے کے اگلے روز یا دو تین روز بعد وہاں پہنچتے ان کا کسی نے کیا بگاڑ لینا تھا؟ کیونکہ ہر کوئی اپنی ناجائز کمائی کا حصہ بڑی باقاعدگی سے اوپر پہنچا رہا ہے‘ بجائے اس کے فائر بریگیڈ کے صرف چند گھنٹوں بعد موقع پر پہنچ جانے پر سندھ حکومت کو یا کراچی کی انتظامیہ کو شاباش دی جاتی الٹا اس کے خلاف غلیظ پروپیگنڈا کیا گیا اور یہ کہا گیا ”سندھ حکومت نااہل ہے“ زیادہ افسوس کی بات یہ ہے کچھ لوگ اس کا ملبہ صدر آصف زرداری اور بلاول زرداری پر ڈال رہے ہیں حالانکہ وہ اس معاملے میں بالکل بے قصور ہیں‘ انہیں تو شاید اب بھی معلوم نہیں ہوگا یہ آگ کہاں لگی؟ کب لگی؟ کیسے لگی؟ یا اس میں جانی و مالی نقصان کتنا ہوا؟ وہ عالمی سطح کے لیڈر ہیں وہ زیادہ تر بیرون ملک ہوتے ہیں ان کے پاس اتنا وقت کہاں ہوتا ہے وہ کہیں لگنے والی آگ یا اس میں ہونے والے بے پناہ جانی و مالی نقصان جیسے ”چھوٹے چھوٹے معاملات“ بارے جانکاری حاصل کر سکیں یا اپنے وزیراعلیٰ یا دوسرے لوگوں سے ان کی کارکردگی پوچھ سکیں اور ان کی سرزنش کر سکیں؟ ویسے بھی جب ”مخصوص مفادات“ میں وزیراعلیٰ مراد علی شاہ کوئی ڈنڈی نہیں مارتے پھر دیگر معاملات میں ان سے ان کی کارکردگی پوچھنا ان کے ساتھ زیادتی ہے۔
یہ بھی ممکن ہے گل پلازے میں جن کی دکانیں تھیں انہوں نے کہیں نہ کہیں منتھلی یا ڈیلی وغیرہ پہنچانے سے انکار کیا ہو یا تاخیر کی ہو جس کے بعد آگ ا±نہیں یہ سبق سکھانے کے لیے لگی ہو کہ“ آئندہ وہ کہیں بھی کوئی دکان یا پلازہ وغیرہ بنائیں جس کا جتنا ”جگا ٹیکس“ یا بھتہ وغیرہ بنتا ہو فوراً ا±وپر پہنچایا کریں بصورت دیگر وہ ہمیشہ ایسے ہی مصائب کا شکار رہیں گے ”کئی افراد اس آگ میں جل کر راکھ ہو گئے مگر بھٹو کل بھی زندہ تھا آج بھی زندہ ہے چنانچہ جب تک بھٹو زندہ ہے ا±س کے داماد یا اس کے نواسے سے ان کی حکومتی کارکردگی کے بارے میں پوچھنے کا کسی کو کوئی حق حاصل نہیں ہے‘ ویسے آج کل بھٹو کے داماد اور ان کے نواسے جب بڑے فخر سے اپنے فیلڈ مارشل عاصم منیر کی خدمات کا ذکر کرتے ہیں یوں محسوس ہوتا ہے بہت جلد وقت آئے گا جب شہید بھٹو اور شہید بی بی کی خدمات عاصم منیر کی خدمات کے سامنے ماند پڑ جائیں گی‘ ممکن ہے کل کلاں بے نظیر بھٹو کے شوہر اور بھٹو کے داماد کے منہ مبارک سے یہ بھی سننے کو مل جائے بھٹو اور بے نظیر بھٹو کی پارٹی ایک زمانے میں پاکستان کے چاروں صوبوں کی مقبول ترین پارٹی تھی‘ بینظیر کو چاروں صوبوں کی زنجیر کہا جاتا تھا‘ آج یہ پارٹی سندھ تک محدود ہوگئی ہے اور اس کے سربراہان اس احساس بلکہ اس یقین میں بری طرح مبتلا ہیں کہ شہید بی بی کے قاتلوں کے ساتھ ان کے گٹھ جوڑ پر ہلکی سی زد بھی اگر پڑ گئی ا±س کے بعد ہوسکتا ہے ان کی پارٹی صرف گڑھی خدا بخش تک محدود ہو جائے‘ انہیں معلوم ہے بھٹو اور بے نظیر بھٹو کی شہادتوں کا چورن وہ اب مزید نہیں بیچ سکتے چنانچہ اقتدار کے لئے اب مستقل طور پر وہ بھی وہی راستہ اختیار کر چکے ہیں جو بشمول پی ٹی آئی دوسری تمام سیاسی جماعتوں نے ماضی میں کیا تھا‘ پاکستان میں اقتدار میں آنے کا واحد راستہ اب رہ بھی فارم فورٹی سیون والا ہی ہے‘ البتہ جمہوریت کے نام لیواوں کو تھوڑا بہت بھرم تو عوام میں اپنا رکھ لینا چاہیے‘ سندھ میں گزشتہ برس ہا برس سے ا±ن کی حکومت ہے‘ پہلے کئی برسوں تک قائم علی شاہ جیسے نکمے شخص کو وزیراعلی بنائے رکھا جو ”سندھ کابزدار“ تھا‘ بڑی مشکل سے ا±س سے جان چ±ھوٹی اب پچھلے کچھ برسوں سے مراد علی شاہ وزیر اعلیٰ ہیں‘ ا±ن کی کارکردگی بھی زیادہ تر بونگیاں مارنا ہے‘ اس کے علاوہ اگر کوئی کارکردگی ہے وہ سوائے آصف زرداری کے کسی کو معلوم نہیں‘ ہمارے سیاہ ست دان جان بوجھ کر ایسے نکمے لوگوں کو آگے لاتے ہیں جن سے انہیں قطعی طور پر یہ خطرہ نہیں ہوتا وہ ان کی جگہ لے لیں گے‘ اس دور میں خوشامد ہی اصل کارکردگی ہے , یا پھر یہ ہے کوئی حکومتی ناجائز کمائی کا حصہ باقاعدگی سے اوپر پہنچاتا رہے‘ بڑا لٹیرا یا بڑا خوشامدی بڑے عہدے کا حقدار ہے‘ ممکن ہے صدر مملکت آصف زرداری اور ان کے صاحبزادے بلاول بھٹو زرداری نے وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ سے جب گل پلازے کراچی میں لگنے والی آگ کے بارے میں سندھ حکومت کی کارکردگی پوچھی ہو آگے سے انہوں نے فرمایا ہو “سر جب گل پلازہ میں آگ لگی ہوئی تھی میں اس وقت بھٹو اور شہید بی بی کی قبروں پر پانی دے رہا تھا‘ مجھے ذرا دیر سے اطلاع نہ ملتی میں خود آگ بجھانے پہنچ جاتا اور اس موقع پر زندہ ہے بھٹو زندہ ہے کے فلک شگاف نعرے لگاتا جس سے آگ نے فوراً بجھ جانا تھا کیونکہ میرے نزدیک آگ بجھانے کا واحد طریقہ یہی تھا جو کسی نے وہاں اختیار نہیں کیا‘ وہاں موجود بیشمار لوگ بس تماشا دیکھتے رہے‘ کسی کے دماغ میں یہ نہیں آیا کہ آگ پر پانی ڈالنے کے بجائے وہ آگ کے سامنے کھڑے ھو کے زندہ ہے بھٹو زندہ ہے‘ زندہ ہے بی بی زندہ ہے کے فلک شگاف نعرے لگائیں‘ اس کے بعد آگ کی کیا مجال یہ نعرے سن کے وہ نہ بجھتی۔


