واشنگٹن : دنیا بھر کے نقشے بدلنے کے ماہر اور ’ڈیل میکر‘ کے نام سے مشہور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ثابت کر دیا ہے کہ ان کے ارادے برف سے زیادہ ٹھنڈے اور عزم پہاڑوں سے زیادہ بلند ہیں۔ اگرچہ انہوں نے یورپ پر ٹیرف کی ’تلوار‘ فی الحال میان میں واپس ڈال لی ہے، لیکن گرین لینڈ کو اپنا بنانے کی پرانی محبت ایک بار پھر مچل اٹھی ہے۔
The penguin does not concern himself with the opinions of those who cannot comprehend. https://t.co/R0xhDKFkot
— The White House (@WhiteHouse) January 24, 2026
پینگوئن کے ساتھ ’رومانوی‘ واک
وائٹ ہاؤس نے سوشل میڈیا پر اے آئی (AI) سے تیار کردہ ایک ایسی تصویر جاری کی ہے جس نے جہاں انٹرنیٹ پر طوفان برپا کیا، وہیں ماہرینِ حیاتیات کو بھی سر پکڑنے پر مجبور کر دیا۔ اس تصویر میں 79 سالہ ٹرمپ صاحب ایک پینگوئن کا ہاتھ تھامے، امریکی جھنڈا لہراتے ہوئے گرین لینڈ کے برفانی گلیشیرز کی طرف فاتحانہ انداز میں بڑھ رہے ہیں۔
سائنس گئی تیل لینے، ڈیل ہونی چاہیے!
دلچسپ بات یہ ہے کہ ماہرین کے مطابق گرین لینڈ (قطب شمالی) میں پینگوئن نہیں پائے جاتے، لیکن ٹرمپ کے حامیوں کا کہنا ہے کہ "جب صدر صاحب وہاں جائیں گے تو پینگوئن خود بخود وہاں ہجرت کر لیں گے”۔ تصویر کا عنوان ’پینگوئن کو گلے لگائیں‘ رکھا گیا ہے، جس سے یہ تاثر مل رہا ہے کہ اب امریکی خارجہ پالیسی میں ٹینکوں اور میزائلوں کی جگہ ’پینگوئن کی جپھی‘ لے رہی ہے۔
عالمی بحث اور ڈنمارک کی پریشانی
اس پوسٹ نے بین الاقوامی سطح پر ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ ڈنمارک کے حکام، جو پہلے ہی گرین لینڈ کو بیچنے سے انکار کر چکے ہیں، شاید اب سوچ رہے ہوں گے کہ کہیں اگلی تصویر میں ٹرمپ صاحب قطبی ریچھ (Polar Bear) کے ساتھ بیٹھ کر گرین لینڈ کے سودے پر دستخط نہ کر رہے ہوں۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ٹیرف کو روکنا تو محض ایک چال ہے، اصل منزل تو وہ برفانی جزیرہ ہے جسے صدر صاحب اپنا "سمر ہاؤس” بنانا چاہتے ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ یہ پینگوئن ٹرمپ صاحب کو گرین لینڈ کے تخت تک لے جاتا ہے یا بیچ راستے میں ہی مچھلی کی تلاش میں غوطہ لگا دیتا ہے۔

