واشنگٹن:ایران کے حوالے سے اپنے حالیہ خطاب میں نسبتاً نرمی کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سنگین نوعیت کا انتباہ جاری کر دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ تہران کے رہنماؤں کی جانب سے ان کے قتل کی دھمکیاں جاری رہنے کا جواب "پوری ریاست کو اڑا دینے” کی صورت میں دیا جائے گا۔
بدھ کی شام "نیوز نیشن” پر نشر ہونے والے ایک انٹرویو میں امریکی صدر نے مزید کہا "میں نے ہدایات چھوڑ دی ہیں کہ اگر کچھ بھی ہوا تو ہم پوری ریاست کو اڑا دیں گے۔” ٹرمپ نے مزید کہا "میں نے بہت سخت ہدایات جاری کی ہیں، اگر کچھ ہوا تو وہ انہیں روئے زمین سے مٹا دیں گے۔”
ٹرمپ کے مطابق سابق صدر جو بائیڈن کو اس معاملے میں "کچھ کہنا” چاہیے تھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ "ایسے معاملات میں صدور کو ایک دوسرے کا دفاع کرنا چاہیے۔”
بائیڈن دور کے انٹیلیجنس حکام نے ٹرمپ کو 2024 کی انتخابی مہم کے دوران انہیں نشانہ بنانے کے مبینہ خطرات کے بارے میں بریفنگ دی تھی۔ سابق اٹارنی جنرل میرک گارلینڈ نے کہا تھا کہ یہ منصوبہ 2020 میں ٹرمپ کی پہلی انتظامیہ کے دوران امریکہ کے ہاتھوں ایرانی جنرل قاسم سلیمانی کی ہلاکت کا انتقام لینے کے لیے بنا تھا۔

