کٹھمنڈو: نیپال میں ‘جین زیڈ’ (Gen Z) نوجوانوں کی قیادت میں ہونے والے پرتشدد احتجاج کے چار ماہ بعد سیاسی درجہ حرارت ایک بار پھر عروج پر ہے۔ ملک میں 5 مارچ کو ہونے والے عام انتخابات کے لیے چار سابق وزرائے اعظم نے اپنے کاغذاتِ نامزدگی جمع کرا دیے ہیں، جس نے نیپالی سیاست میں پرانی قیادت کے غلبے پر ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔
انتخابی میدان کے بڑے کھلاڑی
نیپال کے سیاسی منظرنامے پر دہائیوں سے قابض رہنے والے تجربہ کار رہنما ایک بار پھر قسمت آزمائی کے لیے تیار ہیں:
کے پی شرما اولی: کمیونسٹ پارٹی آف نیپال (UML) کے چیئرمین اور معزول وزیراعظم جھاپا-5 سے انتخاب لڑ رہے ہیں۔
پشپا کمال دہل (پرچنڈا): ماؤسٹ سینٹر کے سربراہ رکم ایسٹ سے میدان میں اترے ہیں۔
مادھو کمار نیپال: سابق وزیراعظم روتاہٹ-1 سے اپنی سیاسی طاقت کا مظاہرہ کریں گے۔
بابورام بھٹارائی: پرگتی شیل لوکتانترک پارٹی کی جانب سے گورکھا-2 سے امیدوار ہیں۔
تاہم، اس بار دو بڑے نام، شیر بہادر دیوبا اور جھالا ناتھ کھنال انتخابی دوڑ میں شامل نہیں ہیں۔
احتجاج سے انتخابات تک کا سفر
یہ انتخابات ایک ایسے وقت میں ہو رہے ہیں جب گزشتہ سال ستمبر میں نیپال کی نوجوان نسل نے مروجہ سیاسی نظام کے خلاف ملک گیر احتجاج کیا تھا۔ اس شدید عوامی دباؤ اور پرتشدد مظاہروں کے نتیجے میں 9 ستمبر کو کے پی شرما اولی کو وزارتِ عظمیٰ کے عہدے سے استعفیٰ دینا پڑا تھا، جس کے بعد ان عام انتخابات کی راہ ہموار ہوئی۔
نوجوانوں کی ناراضی اور ‘سٹیٹس کو’
سینئر صحافی اور ’ارتھک دینک‘ کے مدیر پرلاہد رجال کا کہنا ہے کہ گزشتہ 15 برسوں سے اقتدار کی کرسی صرف تین ناموں (دیوبا، پرچنڈا اور اولی) کے گرد گھومتی رہی ہے۔ ان کا کہنا ہے:
"جین زیڈ نوجوان قیادت میں بڑی تبدیلی کے خواہاں تھے، لیکن المیہ یہ ہے کہ آج بھی 70 سال سے زائد عمر کے وہی پرانے چہرے انتخابی میدان میں موجود ہیں۔”
اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا نیپال کے نوجوان ووٹرز اس بار بیلٹ پیپر کے ذریعے پرانی قیادت کو مسترد کر کے تبدیلی کا خواب پورا کر پائیں گے یا تجربہ کار سیاستدان ایک بار پھر بازی لے جائیں گے۔
نیپال میں سیاسی دنگل: نوجوانوں کا احتجاج، ‘بوڑھوں’ کی واپسی؛ چار سابق وزرائے اعظم پھر آمنے سامنے

