ڈھاکہ:انڈیا نے بنگلہ دیش کو ’نان فیملی‘ سفارتی تعیناتی کے طور پر رجسٹر کر لیا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ وہ انڈین سفارتکار اور سفارتی عملہ جو بنگلہ دیش میں تعینات کیے جائیں گے وہ اپنے اہلخانہ (بیوی، بچوں) کو وہاں نہیں لے جا سکیں گے۔
یاد رہے کہ دنیا بھر میں صرف چار ممالک بشمول پاکستان، افغانستان، عراق اور جنوبی سوڈان ایسے ممالک ہیں جنھیں انڈیا نے ’نان فیملی‘ ملک قرار دے رکھا ہے اور اب حالیہ فیصلے کے بعد اس فہرست میں بنگلہ دیش کو شامل کر لیا گیا ہے۔
بی بی سی کو موصول ہونے والی معلومات کے مطابق یہ فیصلہ یکم جنوری 2026 سے نافذ العمل ہو چکا ہے۔ بنگلہ دیش میں تعینات انڈین حکام کو اطلاع دی گئی تھی کہ اُن کے اہلخانہ کو آٹھ جنوری تک اپنے ملک انڈیا واپس جانا ہو گا۔ تاہم جن سفاتکاروں اور عملے کے اراکین کے بچے بنگلہ دیشی سکولوں میں پڑھتے ہیں، انھیں انڈیا واپسی کے لیے اضافی سات دن دیے گئے تھے۔
نتیجتاً 15 جنوری تک، ڈھاکہ، چٹاگانگ، کھلنا، سلہٹ اور راجشاہی میں تعینات انڈین افسران کے خاندانوں کو بہت کم وقت میں انڈیا واپس جانا پڑا ہے۔بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بنگلہ دیش کے مشیر برائے خارجہ امور توحید حسین نے کہا کہ ’کوئی ثبوت نہیں کہ ہم انڈین سفارتی عملے کی حفاظت یقینی بنانے میں ناکام رہے ہیں۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ ’کے کے آر نے بنگلہ دیشی کھلاڑی مستفیض الرحمان کو خریدا تھا اور بعد ازاں تسلیم کیا کہ وہ ان کی حفاظت کو یقینی نہیں بنا سکتے۔ ایسی چیزیں نہ ہوتیں تو زیادہ بہتر تھا۔‘
انھوں نے کہا کہ ’انڈیا بنگلہ دیش کو بھی پاکستان والے زمرے میں رکھتا ہے یا نہیں، یہ اُن کا فیصلہ ہے، اور ظاہر ہے کہ یہ فیصلہ افسوسناک ہے، لیکن میں ان کا فیصلہ بدل نہیں سکتا۔ اگر وہ محسوس کرتے ہیں کہ وہ یہاں محفوظ نہیں ہیں تو انھیں ایسا کرنے دیں۔ ایسا کبھی نہیں ہوا کہ انھیں سکیورٹی کی کمی کا سامنا کرنا پڑا ہو۔‘

