ٹوکیو:جاپان کی وزیرِاعظم سانائے تکائچی نے اعلان کیا ہے کہ وہ جمعے کو پارلیمان تحلیل کر دیں گی، جس کے بعد 8 فروری کو قبل از وقت انتخابات ہوں گے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ عوامی حمایت کو پارلیمانی اکثریت میں بدلنے کی کوشش ہے۔
سانائے تکائچی نے ٹوکیو میں نیوز کانفرنس کے دوران کہا کہ یہ ایک ’انتہائی اہم فیصلہ‘ ہے جو ’عوام کے ساتھ مل کر جاپان کی سمت کا تعین کرے گا۔‘
جاپان کی پہلی خاتون وزیرِاعظم اور ان کی کابینہ کو گذشتہ اکتوبر میں اقتدار سنبھالنے کے بعد سے عوامی سطح پر بھرپور حمایت حاصل ہے۔ تاہم ان کی جماعت لبرل ڈیموکریٹک پارٹی، ایل ڈی پی، رائے عامہ کے سروے میں پیچھے ہے اور یہ قدم ایک بڑا سیاسی خطرہ بھی ہے۔ یہ جاپان میں دو برسوں میں دوسرا عام انتخاب ہوگا۔
سانائے تکائچی نے کہا کہ وہ چاہتی ہیں عوام براہِ راست فیصلہ کریں کہ ’کیا سانائے تاکائچی وزیرِاعظم کے منصب کے لیے موزوں ہیں یا نہیں۔‘
انتخابات کے لیے مہم 27 جنوری سے شروع ہوگی، جس میں ایوانِ نمائندگان کے 465 ارکان منتخب کیے جائیں گے۔ ایل ڈی پی کے پاس اس وقت 199 نشستیں ہیں اور جاپان انوویشن پارٹی کے ساتھ اتحاد کے ذریعے حکومت کر رہی ہے۔
سانائے تکائچی سابق وزیرِاعظم شنزو آبے کی قریبی ساتھی اور برطانوی رہنما مارگریٹ تھیچر کی مداح سمجھی جاتی ہیں۔ انھیں جاپان کی ’آئرن لیڈی‘ کہا جاتا ہے۔ اقتدار سنبھالتے ہی انھوں نے معیشت کو دوبارہ ترقی کی راہ پر ڈالنے کا وعدہ کیا تھا اور حکومتی اخراجات بڑھانے کی پالیسی اپنائی ہے۔
گذشتہ ماہ ان کی کابینہ نے 57 ارب ڈالر کا ریکارڈ دفاعی بجٹ منظور کیا، جسے چین کی بڑھتی ہوئی فوجی سرگرمیوں کے تناظر میں ’سب سے بڑا سٹریٹیجک چیلنج‘ قرار دیا گیا۔
سانائے تکائچی کے تائیوان سے متعلق بیانات پر چین نے سخت ردعمل دیا اور دونوں ممالک کے تعلقات ایک دہائی کی کم ترین سطح پر پہنچ گئے۔ دوسری جانب انھوں نے امریکہ کے ساتھ تعلقات مزید مضبوط کیے ہیں۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دورہ جاپان کے دوران دونوں رہنماؤں نے ایک دوسرے کی تعریف کی اور نایاب معدنیات پر معاہدہ کیا۔
رائے عامہ کے جائزوں کے مطابق اگرچہ ایل ڈی پی عوام میں غیر مقبول ہے، لیکن سانائے تاکائچی اور ان کی حکومت کی حمایت 60 سے 80 فیصد کے درمیان ہے۔ ماہرین کے مطابق وہ اس مقبولیت کو استعمال کرتے ہوئے پارلیمان میں واضح اکثریت حاصل کرنا چاہتی ہیں تاکہ اپنی پالیسیوں کو آسانی سے نافذ کر سکیں۔
تاہم یہ فیصلہ خطرات سے خالی نہیں۔ جاپان میں گذشتہ پانچ برسوں میں یہ چوتھی وزیرِاعظم ہیں، اور ان کے پیش رو عوامی حمایت کھو کر اور سکینڈلز کی زد میں آ کر اقتدار سے بے دخل ہوئے۔ ان کے پیش رو شیگرو ایشیبا نے بھی قبل از وقت انتخابات کرائے تھے، جس کے نتیجے میں ایل ڈی پی کو ایوانِ نمائندگان میں اکثریت کھونی پڑی۔
اب ایک نئی متحدہ اپوزیشن بھی سامنے آ چکی ہے، جسے ’سینٹرسٹ ریفارم الائنس‘ کہا جا رہا ہے۔ یہ اتحاد آئینی ڈیموکریٹک پارٹی اور کومیتو پارٹی نے تشکیل دیا ہے، جو پہلے ایل ڈی پی کی اتحادی رہ چکی ہے۔
سانائے تکائچی نے کہا کہ پارلیمان کی تحلیل اس وقت کی جا رہی ہے جب ’معاشی پالیسیوں کے تسلسل کو یقینی بنانے کے لیے مکمل نظام قائم کر لیا گیا ہے۔‘ ان کا کہنا تھا کہ وہ چاہتی ہیں عوام ان پر اعتماد کریں کہ وہ اپنے وعدے پورے کریں گی۔
وزیراعظم کا قبل از وقت انتخابات کا اعلان، جمعے کو پارلیمنٹ تحلیل ہوجائے گی

