واشنگٹن / قاہرہ: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے غزہ میں جاری اسرائیل حماس جنگ کے خاتمے اور خطے کی بحالی کے لیے ایک انقلابی 20 نکاتی منصوبے کا اعلان کیا ہے۔ اس منصوبے کی نگرانی کے لیے ایک اعلیٰ سطح کا "بورڈ آف پیس” تشکیل دیا گیا ہے، جس میں سابق برطانوی وزیراعظم ٹونی بلیئر سمیت دنیا کی بااثر ترین سیاسی و معاشی شخصیات کو شامل کیا گیا ہے۔
بورڈ آف پیس کی تشکیل اور اہم ارکان
وائٹ ہاؤس کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق، یہ بورڈ غزہ میں استحکام اور طویل مدتی کامیابی کے لیے سرمایہ کاری، فنڈنگ، اور علاقائی تعلقات کے پورٹ فولیو کی نگرانی کرے گا۔ بورڈ کے بانی ارکان میں شامل نمایاں نام درج ذیل ہیں:
ٹونی بلیئر: سابق برطانوی وزیراعظم
جیرڈ کشنر: امریکی صدر کے داماد اور سابق مشیر
مارکو روبیو: امریکی وزیر خارجہ
اجے بنگا: چیئرمین ورلڈ بینک گروپ
اسٹیو وِٹکوف: مشرق وسطیٰ کے لیے امریکی خصوصی ایلچی
اس کے علاوہ اقوام متحدہ کے سابق اہلکار نکولے ملاڈینوف کو غزہ کے لیے ‘اعلیٰ نمائندہ’ مقرر کیا گیا ہے۔
غزہ کا انتظام: حماس کی جگہ نئی گورننس
منصوبے کے تحت غزہ کے روزمرہ امور چلانے کے لیے ایک ایگزیکٹو بورڈ بھی تشکیل دیا گیا ہے، جس میں ترکیہ کے وزیر خارجہ ہاکان فیدان اور قطری سفارت کار بھی شامل ہیں۔ غزہ میں گورننس کی ذمہ داری خان یونس سے تعلق رکھنے والے فلسطینی اتھارٹی کے سابق نائب وزیر علی شات کے سپرد کی گئی ہے۔
قاہرہ میں 15 ٹیکنوکریٹس پر مشتمل فلسطینی کمیٹی کا پہلا اجلاس بھی منعقد ہو چکا ہے، جس میں جیرڈ کشنر نے شرکت کی۔ یہ کمیٹی جنگ کے بعد غزہ کا انتظام سنبھالنے کی ذمہ دار ہوگی۔
سیکیورٹی اور بین الاقوامی فورس
غزہ میں سیکیورٹی آپریشنز اور انسانی امداد کی ترسیل کو یقینی بنانے کے لیے ایک انٹرنیشنل سٹیبلائزیشن فورس قائم کی گئی ہے۔ امریکی اسپیشل فورسز کے موجودہ کمانڈر میجر جنرل جیسپر جیفرز کو اس فورس کا سربراہ مقرر کیا گیا ہے۔ ان کی ذمہ داریوں میں علاقے کو غیر مسلح کرنے کے عمل کی نگرانی کرنا بھی شامل ہے۔
حماس کا موقف
دوسری جانب حماس نے اشارہ دیا ہے کہ وہ ٹرمپ کے منصوبے کے تحت اپنی حکومتی ذمہ داریاں چھوڑنے کے لیے تیار ہے، تاہم گروپ نے ہتھیار ڈالنے سے قبل ٹھوس ضمانتوں کا مطالبہ کیا ہے۔ سیاسی ماہرین اس منصوبے کو خطے میں امریکی اثر و رسوخ کی واپسی اور عرب ممالک کو غزہ کی تعمیر نو میں شامل کرنے کی ایک بڑی کوشش قرار دے رہے ہیں۔

