واشنگٹن:امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکا کو گرین لینڈ پر اپنا مالکانہ حق حاصل کرنے کی ضرورت ہے تاکہ مستقبل میں روس یا چین کو اس جزیرے پر قابض ہونے سے روکا جا سکے۔
غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق جمعے کو وائٹ ہاؤس میں تیل کی کمپنیوں کے سربراہان سے ملاقات کے دوران صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ’ہم گرین لینڈ کے حوالے سے کچھ نہ کچھ کرنے جا رہے ہیں، چاہے کوئی اسے پسند کرے یا نہ کرے۔‘
انہوں نے کہا کہ ’اگر ہم نے ایسا نہ کیا تو روس یا چین گرین لینڈ پر قبضہ کر لیں گے اور ہم کسی صورت یہ نہیں چاہتے کہ روس یا چین ہمارے پڑوسی بنیں۔‘صدر ٹرمپ نے واضح کیا کہ اگرچہ 1951 کے ایک معاہدے کے تحت امریکا کی فوجی موجودگی گرین لینڈ میں پہلے سے ہے لیکن اس قسم کے معاہدے جزیرے کے دفاع کی ضمانت دینے کے لیے کافی نہیں ہیں۔
انہوں نے زور دے کر کہا کہ ’آپ ملکیت کا دفاع کرتے ہیں، لیز کا نہیں۔ ہمیں گرین لینڈ کا دفاع کرنا ہو گا اور اگر ہم نے یہ قدم نہ اٹھایا تو چین یا روس وہاں پہنچ جائیں گے۔‘
🕊️💣# Trump talks #peace, threatens force on #Iran and #Greenland in same breath 🧠🌊🔴 Catch the day’s latest news here ➠ https://t.co/QaAHTwwPeS 🗞️ pic.twitter.com/nE0DLkDlDB
— Economic Times (@EconomicTimes) January 10, 2026
واضح رہے کہ 57 ہزار کی آبادی والا یہ جزیرہ (گرین لینڈ) ڈنمارک کی بادشاہت کے تحت ایک خودمختار علاقہ ہے۔
اطلاعات کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور وائٹ ہاؤس کے حکام گرین لینڈ کو امریکی کنٹرول میں لانے کے لیے مختلف منصوبوں پر غور کر رہے ہیں۔
ان منصوبوں میں امریکی فوج کا ممکنہ استعمال اور گرین لینڈ کے باشندوں کو بڑی رقوم کی ادائیگی کی پیشکش بھی شامل ہے تاکہ انہیں ڈنمارک سے علیحدگی اختیار کر کے امریکا کا حصہ بننے پر آمادہ کیا جا سکے۔
تاہم کوپن ہیگن اور یورپ کے دیگر ممالک کے رہنماؤں نے گرین لینڈ پر امریکی دعوے کو سخت ناپسندیدگی کی نظر سے دیکھا ہے۔
ڈنمارک اور امریکا نیٹو کے اتحادی ہیں اور باہمی دفاعی معاہدے میں جڑے ہوئے ہیں لیکن اس کے باوجود حالیہ بیانات نے سفارتی تناؤ پیدا کر دیا ہے۔
منگل کو فرانس، جرمنی، اٹلی، پولینڈ، سپین، برطانیہ اور ڈنمارک نے ایک مشترکہ بیان جاری کیا جس میں واضح کیا گیا کہ گرین لینڈ کے مستقبل اور اس کے تعلقات کا فیصلہ کرنے کا حق صرف وہاں کے عوام اور ڈنمارک کو حاصل ہے۔

