نیویارک: وینزویلا کے معزول صدر نکولس مادورو اور ان کی اہلیہ پرفرد جرم عائد ۔۔ گذشتہ روز وفاقی عدالت میں منشیات کی اسمگلنگ سمیت سنگین الزامات میں دونوں نے بے قصورہونے کی استدعا کی۔ مادورو نے جج کو بتایا کہ وہ وینزویلا کے صدر ہیں۔ نکولس مادورو اور ان کی اہلیہ تقریباً 30 منٹ تک جاری رہنے والی سماعت کے بعد عدالت سے نکل گئے۔ اس معاملے کی اگلی سماعت 17 مارچ 2026 کو صبح 11 بجے ہوگی۔
میں ایک شریف آدمی ہوں جسے گھر سے اغوا کیا گیا،مادورو
نکولس مادورو کی پیشی امریکی فوجی کارروائی کے دو دن بعد ہوئی ہے جس میں انہیں کاراکاس میں گرفتار کیا گیا تھا۔ مادورو نے خود کو وینزویلا کے صدر کی حیثیت سے جج کے سامنے پیش کیا اور کہا کہ انہیں اغوا کیا گیا ہے۔ جب جج کی طرف سے منشیات کی دہشت گردی اور کوکین درآمد کرنے کی سازش کے الزامات پر سوال کیا گیا تو مادورو نے کہا، "میں ایک شریف آدمی ہوں۔ مجھے کاراکاس، وینزویلا میں میرے گھر سے گرفتار کیا گیا تھا۔”جب مادورو کو اپنی شناخت کی تصدیق کرنے کے لیے کہا گیا تو مادورو نے کھڑے ہو کر ہسپانوی زبان میں بات کی، ان کے الفاظ کا انگریزی میں ترجمہ کیا گیا۔
ہم معصوم نہیں لیکن مکمل بے قصور ہیں، اہلیہ سیلیا فلورس
مادورو کی اہلیہ سیلیا فلورس نے بھی خود کو مکمل طور پر بے قصور قرار دیا۔ عدالت سے نکلتے ہی مادورو نے کہا کہ میں جنگی قیدی ہوں۔ مادورو کے وکیل نے اغوا کو قانون کی خلاف ورزی قرار دیا۔ یہ پہلی بار نہیں ہے کہ کسی ملزم کی جانب سے اس طرح کی دلیل دی گئی ہو۔
مادورو کی اہلیہ سیلیا فلورس نے بھی قصوروار نہ ہونے کی استدعا کرتے ہوئے ہسپانوی زبان میں جج کو بتایا، "ہم معصوم نہیں، لیکن مکمل طور پر بے قصور ہیں۔”
سیلیا فلورس کی پسلیوں میں فریکچر،مادورو کو طبی مسائل
جب ان سے ان کی شناخت کی تصدیق کے لیے پوچھا گیا تو اس نے ایک مترجم کے ذریعے کہا، ’’میں وینزویلا کی خاتون اول ہوں۔ وہ اپنے ماتھے اور دائیں کنپٹی پر پٹیاں باندھ کر عدالت میں پیش ہوئیں اور انہیں دفاعی میز پر بیٹھنے کے لیے مدد کی ضرورت تھی۔ان کے وکیل نے کہا کہ انہیں "سنگین زخموں” کے لیے طبی معائنے اور ممکنہ علاج کی ضرورت ہوگی، جسے انہوں نے اپنے "اغوا” کے نتیجے میں بیان کیا۔ اٹارنی مارک ڈونیلی نے کہا کہ فلورس کی پسلیوں میں فریکچر یا کم از کم شدید زخم ہو سکتے ہیں۔ مادورو کے وکیل بیری پولاک نے بھی عدالت کو بتایا کہ وینزویلا کے رہنما کے صحت اور طبی مسائل ہیں جن پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ی این این کے مطابق، مادورو اور فلورس دونوں نے وینزویلا کے قونصل خانے کے نمائندے سے "ملاقات” کی درخواست کی۔ امریکی قانون کے تحت، زیر حراست غیر ملکی شہری قونصلر رسائی کے حقدار ہیں،کیس کی اگلی سماعت 17 مارچ کو مقرر کی گئی ہے۔
جولین اسانج کے وکیل صفائی بیری پولاک صدرمادورو کی طرف سے پیش ہوں گے
وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کی وکالت اب مشہور وکیلِ صفائی بیری پولاک کریں گے، جو اس سے قبل ویکی لیکس کے بانی جولین اسانج کی نمائندگی کر چکے ہیں۔بیری پولاک 30 سال سے زائد کا وسیع قانونی تجربہ رکھتے ہیں۔ انہوں نے ہی جولین اسانج کی رہائی کے لیے وہ اہم ‘پلی ایگریمنٹ’ (اقرارِ جرم کا معاہدہ) طے کرایا تھا جس کی بدولت اسانج جیل سے آزاد ہوئے تھے۔ واضح رہے کہ جولین اسانج پر اس سے قبل ‘ایسپائنیج ایکٹ’ (جاسوسی ایکٹ) کے تحت الزامات عائد تھے۔
ہیوسٹن کے سابق وفاقی پراسیکیوٹر مارک ڈونیلی مادورو کی اہلیہ کی جانب سے عدالت میں پیش ہوں گے۔

صدر مادورو کو سزائے موت یا کم از کم عمر قید کا سامنا
استغاثہ کا دعویٰ ہے کہ مادورو نے کئی دہائیوں تک اقتدار کا غلط استعمال کرتے ہوئے امریکا میں ٹنوں کے حساب سے کوکین اسمگل کرنے میں مدد فراہم کی۔
انونی ماہرین کے مطابق، اگر مادورو پر عائد منشیات اسمگلنگ اور ‘نارکو ٹیررازم’ کے الزامات ثابت ہو جاتے ہیں، تو انہیں امریکی وفاقی قانون کے تحت سزائے موت دی جا سکتی ہے۔
مادورو کی گرفتاری اور ان پر ممکنہ سزائے موت کے خطرے نے عالمی سطح پر ایک بحث چھیڑ دی ہے۔ روس اور چین جیسے ممالک نے اس امریکی کارروائی کو بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیا ہے، جبکہ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی منشیات کی عالمی تجارت کے خاتمے اور انصاف کی فراہمی کے لیے ناگزیر تھی۔
یاد رہے کہ نکولس مادورو کو جنوری 2026 کے آغاز میں ایک خصوصی امریکی فوجی آپریشن ‘ایبسولیوٹ ریزالو’ (Absolute Resolve) کے ذریعے گرفتار کیا گیا تھا، جس کے بعد سے وہ نیویارک کی جیل میں قید ہیں۔


