نئی دہلی : نئی دہلی میں فسادات کی سازش سے متعلق کیس میں انڈین سپریم کورٹ نے عمر خالد اور شرجیل امام کی ضمانت کی درخواست مسترد کر دی ہے۔یہ فیصلہ سپریم کورٹ کے جسٹس اروند کمار اور جسٹس این وی انجریا پر مشتمل بینچ نے سنایا۔
عدالت نے اسی کیس میں پانچ دیگر ملزمان کو ضمانت دی ہے جن میں گلفشہ فاطمہ، میران حیدر، شفا الرحمان، محمد سلیم خان اور شاداب احمد شامل ہیں۔عدالت نے کہا کہ عمر خالد اور شرجیل امام کا کردار دیگر ملزمان سے مختلف ہے اور ابتدائی شواہد سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ فسادات کی منصوبہ بندی اور حکمتِ عملی میں شامل تھے۔
عدالت نے کہا کہ دونوں ایک سال بعد یا گواہوں کے بیانات مکمل ہونے کے بعد دوبارہ ضمانت کے لیے درخواست دے سکتے ہیں۔تمام سات ملزمان پر الزام ہے کہ انھوں نے 2019 میں سی اے اے (شہریت ترمیمی قانون) کے خلاف احتجاج کے دوران دلی میں فرقہ وارانہ تشدد بھڑکانے کی سازش کی جس کے نتیجے میں فروری 2020 میں فسادات ہوئے۔جبکہ ملزمان کا موقف ہے کہ وہ پانچ سال سے جیل میں ہیں لیکن مقدمے کی سماعت شروع نہیں ہوئی۔
طلبہ رہنما اور سماجی کارکن عمر خالد ستمبر 2020 سے جیل میں ہیں۔ ان پر الزام ہے کہ انھوں نے دارالحکومت نئی دہلی میں تشدد بھڑکانے کی کوشش کی اور ان کے خلاف دو ایف آئی آرز درج ہیں۔ایک کیس میں انھیں اپریل 2021 میں ضمانت ملی تھی جبکہ دوسرے کیس میں ان پر یو اے پی اے (غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کا ایکٹ) کے تحت مقدمہ ہے۔ اس کیس میں دو عدالتیں ان کی ضمانت مسترد کر چکی ہیں اور ان کی درخواست اپریل 2023 سے سپریم کورٹ میں زیرِ التوا تھی۔

