Benaqab News | Welcome to Benaqab News Network
    Facebook Twitter Instagram
    Benaqab News | Welcome to Benaqab News NetworkBenaqab News | Welcome to Benaqab News Network
    • ہوم
    • اہم ترین
    • پاکستان
    • دنیا کی خبریں
    • صحت
    • انٹرٹینمنٹ
    • کھیل
    • بزنس
    • ٹیکنالوجی

      وٹس ایپ نے صارفین کیلئے نیا دلچسپ فیچر متعارف کرادیا

      امریکی دفاعی نظام کو کاری ضرب: قطر میں 1.1 ارب ڈالر مالیت کا جدید ترین ‘ارلی وارننگ ریڈار’ تباہ

      دبئی میں ایمیزون (AWS) کا ڈیٹا سینٹر ملبے کا ڈھیر، عالمی ٹیک انڈسٹری میں زلزلہ!

      جنگ،قطری فضائی حدود بند: قطر ایئرویز نے دوحہ آنے اور جانے والی تمام پروازیں معطل کر دیں

      ایپل سے بھی مہنگا،سام سنگ نے اسمارٹ فون گلیکسی ایس 26 لانچ کردیا ،جدید فیچرز شامل

    • بلاگ
    • ویڈیوز

      ایران کے سابق صدر احمدی نژاد منظر عام پر آگئے

      دبئی ائیرپورٹ پر میزائل حملہ ، 4 زخمی

      مناما،امریکی پانچواں فلیٹ سروس سینٹر کا تازہ ترین ایرانی حملے کے بعد مکمل صفایا

      ابوظہبی ، ایرانی میزائل حملے کے بعد خوف وہراس،ایک ہلاک، شہری پناہ لینے پر مجبور

      بنگلہ دیش کے نومنتخب وزیراعظم طارق رحمان کی مسلح افواج کے سربراہان سے ملاقات

    Benaqab News | Welcome to Benaqab News Network

    قانون شکنی یا فرض شناسی؟ ایک“ون وے“ نے سچ تک پہنچا دیا پنجاب پولیس کی وہ مثال جو کتابوں میں نہیں ملتی

    Facebook Twitter LinkedIn WhatsApp
    Share
    Facebook Twitter Email WhatsApp

    تحریر:اسد مرزا
    جہاں لفظ بے نقاب ہوں۔۔۔ وہیں سے سچ کا آغاز ہوتا ہے۔

    کسی بھی معاشرے میں انصاف کی بنیاد مضبوط تفتیش پر ہوتی ہے۔ تفتیش کا پہلا مرحلہ دراصل پورے کیس کی ریڑھ کی ہڈی ہوتا ہے۔ پہلی تفتیش کی مثال بالکل ایسی ہے جیسے کسی مریض کا آپریشن کوئی عطائی ڈاکٹر کر دے۔ مرض وہیں بگڑ جاتا ہے۔ بعد میں آپ اسے کسی مہنگے ہسپتال لے جائیں، انتہائی تجربہ کار اور ماہر ڈاکٹر سے علاج کروائیں، تب بھی مریض کی حالت سنبھلنا مشکل ہو جاتی ہے۔ یہی اصول فوجداری تفتیش پر لاگو ہوتا ہے۔ اگر ابتدائی تفتیش غلط، لاپرواہ یا بدنیتی پر مبنی ہو تو بعد میں چاہے جتنی مرضی انکوائریاں، سپروائزری افسران یا اعلیٰ سطح کی تحقیقات کیوں نہ ہو جائیں، انصاف اکثر بحال نہیں ہو پاتا۔ تفتیشی افسر کی نیت، دلچسپی اور دیانت اگر زندہ ہو تو اندھا کیس بھی بول اٹھتا ہے، اور اگر یہی افسر لاپرواہی یا بدنیتی سے کام لے تو زندہ سچ دفن ہو جاتا ہے۔ المیہ یہ ہے کہ ایسے میں چاہے تفتیشی افسر کو بعد میں سزا ہی کیوں نہ مل جائے، انصاف کا قتل تو اسی لمحے ہو چکا ہوتا ہے جب کیس بگاڑا جاتا ہے اور فائدہ ہمیشہ ملزم کو پہنچتا ہے۔ پنجاب میں آج ہم ایک عجیب تضاد دیکھتے ہیں۔ عام شہری ٹریفک قوانین کی معمولی خلاف ورزی پر ہزاروں روپے جرمانہ ادا کرتا ہے، مگر ایک سرکاری پولیس وین ون وے چلتی ہے، لوگ غصے سے دیکھتے رہ جاتے ہیں، اور قانون کی گاڑی نہیں رکتی۔ بظاہر یہ قانون شکنی ہے، مگر کبھی کبھی یہی “غلط راستہ” کسی بڑی سچائی تک پہنچنے کا ذریعہ بن جاتا ہے بشرطیکہ نیت صاف ہو۔ یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب ایک لاوارث لاش نہر سے برآمد ہوئی۔ اگر معاملہ رسمی کارروائی تک محدود رہتا تو نعش دفنا دی جاتی، فائل بند ہو جاتی، اور پولیس بھی ملزم کی طرح آزاد ہو جاتی۔ مگر یہاں فرق ایک افسر نے پیدا کیا ڈی ایس پی چوہدری لیاقت علی نے۔ وہ افسر جو ایس ایس پی کرائم برانچ سے ریٹائر ہوئے اور اب اس دنیا میں نہیں، مگر ان کی تفتیش آج بھی زندہ مثال ہے۔

    2006 میں موضع مل مانگا منڈی لاہور کے قریب نہر میں تیرتی لاش پل کے نیچے جھاڑیوں میں پھنس گئی۔ اطلاع ملنے پر ٹی ایس آئی حسنین حیدر شاہ موقع پر پہنچے، نعش نکلوائی، کوائف نوٹ کیے۔ کچھ دیر بعد ڈی ایس پی سرکل چوہنگ، چوہدری لیاقت علی بھی موقع پر پہنچے۔ انہوں نے نعش کو سیدھا کیا، انگوٹھے باندھے، سفید کپڑا ڈالتے ہوئے کہا:
    “ہم سب نے بھی اس دنیا سے جانا ہے، میت کو اسلامی پروٹوکول کے مطابق عزت سے رکھیں”
    یہ جملہ محض ہمدردی نہیں تھا، یہ یاد دہانی تھی کہ تفتیش صرف فائل نہیں، انسان سے جڑی ذمہ داری ہے۔ جب تفتیشی افسر نے بتایا کہ وقوعہ کا مقام معلوم نہیں اور ملزم کا کوئی سراغ نہیں، تو چوہدری لیاقت علی نے ایک تجربہ کار افسر کی طرح وہ ہدایت دی جو کتابوں میں نہیں ملتی۔ انہوں نے کہا کہ نہر کے بائیں جانب مخالف سمت میں دو سے اڑھائی کلومیٹر پیدل جائیں، سراغ مل جائے گا۔ گرمی، تھکن اور مایوسی کے باوجود ٹیم نکلی، مگر ایک کلومیٹر بعد واپس اطلاع دی کہ کچھ ہاتھ نہیں آیا۔ یہاں ایک عام افسر کیس بند کر دیتا، مگر چوہدری لیاقت علی نے ہار نہیں مانی۔ انہوں نے انسپکٹر رضوان منظور کو کہا۔ آپ بھی تھک جائیں گے، مگر اس کیس کا سراغ لگانا ضروری ہے۔ سرکاری گاڑی ون وے ہی لے جائیں، اور دیکھتے جائیں کہ خون کے قطرے کہاں ملتے ہیں۔

    ساڑھے تین کلومیٹر بعد نہر کے کنارے خون کے قطرے ملے۔ وہی قطرے ٹیم کو جائے واردات تک لے گئے۔ مقامی لوگوں نے بتایا کہ رات یہاں فائرنگ کی آواز سنی گئی تھی۔ مقدمہ درج ہوا، ملزم گرفتار ہوا۔ بعد ازاں معلوم ہوا کہ مقتول وکیل تھا، قصور میں وکلا کا احتجاج شروع ہوا، اغوا برائے تاوان اور قتل کا مقدمہ درج ہوا، اور ملزم قصور پولیس کے حوالے کر دیا گیا۔ یہ کیس اس بات کا واضح ثبوت تھا کہ تفتیش کا دارومدار جدید ٹیکنالوجی پر نہیں، بلکہ افسر کے دماغ، تجربے اور ایمانداری پر ہوتا ہے۔ چوہدری لیاقت علی کی اصل میراث ان کے شاگرد ہیں۔ ڈی ایس پی رضوان منظور، جو آج سی سی ڈی میں تعینات ہیں، اور ڈی ایس پی حسنین حیدر شاہ، جو سول لائنز لاہور میں انویسٹی گیشن کی ذمہ داری نبھا رہے ہیں۔ وہ افسر جو سیکھنا چاہتے تھے، چوہدری لیاقت علی انہیں اپنے ساتھ رکھتے، طریقے سکھاتے، تاکہ علم کی روشنی آگے منتقل ہوتی رہے۔ افسوس یہ ہے کہ پنجاب پولیس میں غلام محمد کلیار اور احمد خان چڈھر جیسے ماہر تفتیشی افسران بھی گزرے، مگر نہ ان کے تجربے سے استفادہ کیا گیا، نہ تفتیشی کورسز میں ان کے لیکچر رکھے گئے۔ اللہ تعالیٰ نے اس محکمے کو محنتی اور دیانت دار افسران سے نوازا، مگر ہم نے ان کی قدر نہ کی۔

    سوال یہ نہیں کہ پولیس کی گاڑی ون وے کیوں گئی، اصل سوال یہ ہے کہ کیا ہماری تفتیش درست سمت میں جا رہی ہے؟ کیونکہ جب تفتیش زندہ ہوتی ہے تو لاشیں بولتی ہیں، اور جب تفتیش مر جائے تو انصاف کا جنازہ خاموشی سے اٹھا لیا جاتا ہے۔

    Related Posts

    کچے کے ڈاکوؤں سرنڈر، جدید اسلحہ کہاں غائب ہوا؟ بھاری ہتھیار قومی تحویل میں لینے کا مطالبہ

    وٹس ایپ نے صارفین کیلئے نیا دلچسپ فیچر متعارف کرادیا

    ”اور یہی سیدھے رستے پر ہیں“ توفیق بٹ کا کالم

    مقبول خبریں

    وٹس ایپ نے صارفین کیلئے نیا دلچسپ فیچر متعارف کرادیا

    سمندر میں خاموشی، تہران میں تباہی: امریکی سینٹ کام کا ایران کے 2000 اہداف اور پوری بحری طاقت کو مفلوج کرنے کا دعویٰ

    امریکی دفاعی نظام کو کاری ضرب: قطر میں 1.1 ارب ڈالر مالیت کا جدید ترین ‘ارلی وارننگ ریڈار’ تباہ

    ملتان سلطانز کے فینز کے لیے بڑی خوشخبری: نئے مالک اور نئے جوش کے ساتھ ٹیم کی واپسی!

    ریاض میں امریکی سفارت خانے پر ڈرون حملہ: امریکا جلد اس کا جواب دے گا، صدر ٹرمپ

    بلاگ

    کچے کے ڈاکوؤں سرنڈر، جدید اسلحہ کہاں غائب ہوا؟ بھاری ہتھیار قومی تحویل میں لینے کا مطالبہ

    ”اور یہی سیدھے رستے پر ہیں“ توفیق بٹ کا کالم

    ”خامنہ ای کی شہادت اور رجیم چینج کی امریکی خواہش“ میاں حبیب کاکالم

    پاک افغان جنگ۔۔۔ذرا فکر نہیں،،، ملک سلمان کا کالم

    تیل کی آخری بوند اور دم توڑتی شہ رگ

    Facebook Twitter Instagram Pinterest
    • Disclaimer
    • Terms & Conditions
    • Contact Us
    • privacy policy
    Copyright © 2024 All Rights Reserved Benaqab Tv Network

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.