تحریر:اسد مرزا
جہاں لفظ بے نقاب ہوں۔۔۔ وہیں سے سچ کا آغاز ہوتا ہے۔
کسی بھی معاشرے میں انصاف کی بنیاد مضبوط تفتیش پر ہوتی ہے۔ تفتیش کا پہلا مرحلہ دراصل پورے کیس کی ریڑھ کی ہڈی ہوتا ہے۔ پہلی تفتیش کی مثال بالکل ایسی ہے جیسے کسی مریض کا آپریشن کوئی عطائی ڈاکٹر کر دے۔ مرض وہیں بگڑ جاتا ہے۔ بعد میں آپ اسے کسی مہنگے ہسپتال لے جائیں، انتہائی تجربہ کار اور ماہر ڈاکٹر سے علاج کروائیں، تب بھی مریض کی حالت سنبھلنا مشکل ہو جاتی ہے۔ یہی اصول فوجداری تفتیش پر لاگو ہوتا ہے۔ اگر ابتدائی تفتیش غلط، لاپرواہ یا بدنیتی پر مبنی ہو تو بعد میں چاہے جتنی مرضی انکوائریاں، سپروائزری افسران یا اعلیٰ سطح کی تحقیقات کیوں نہ ہو جائیں، انصاف اکثر بحال نہیں ہو پاتا۔ تفتیشی افسر کی نیت، دلچسپی اور دیانت اگر زندہ ہو تو اندھا کیس بھی بول اٹھتا ہے، اور اگر یہی افسر لاپرواہی یا بدنیتی سے کام لے تو زندہ سچ دفن ہو جاتا ہے۔ المیہ یہ ہے کہ ایسے میں چاہے تفتیشی افسر کو بعد میں سزا ہی کیوں نہ مل جائے، انصاف کا قتل تو اسی لمحے ہو چکا ہوتا ہے جب کیس بگاڑا جاتا ہے اور فائدہ ہمیشہ ملزم کو پہنچتا ہے۔ پنجاب میں آج ہم ایک عجیب تضاد دیکھتے ہیں۔ عام شہری ٹریفک قوانین کی معمولی خلاف ورزی پر ہزاروں روپے جرمانہ ادا کرتا ہے، مگر ایک سرکاری پولیس وین ون وے چلتی ہے، لوگ غصے سے دیکھتے رہ جاتے ہیں، اور قانون کی گاڑی نہیں رکتی۔ بظاہر یہ قانون شکنی ہے، مگر کبھی کبھی یہی “غلط راستہ” کسی بڑی سچائی تک پہنچنے کا ذریعہ بن جاتا ہے بشرطیکہ نیت صاف ہو۔ یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب ایک لاوارث لاش نہر سے برآمد ہوئی۔ اگر معاملہ رسمی کارروائی تک محدود رہتا تو نعش دفنا دی جاتی، فائل بند ہو جاتی، اور پولیس بھی ملزم کی طرح آزاد ہو جاتی۔ مگر یہاں فرق ایک افسر نے پیدا کیا ڈی ایس پی چوہدری لیاقت علی نے۔ وہ افسر جو ایس ایس پی کرائم برانچ سے ریٹائر ہوئے اور اب اس دنیا میں نہیں، مگر ان کی تفتیش آج بھی زندہ مثال ہے۔
2006 میں موضع مل مانگا منڈی لاہور کے قریب نہر میں تیرتی لاش پل کے نیچے جھاڑیوں میں پھنس گئی۔ اطلاع ملنے پر ٹی ایس آئی حسنین حیدر شاہ موقع پر پہنچے، نعش نکلوائی، کوائف نوٹ کیے۔ کچھ دیر بعد ڈی ایس پی سرکل چوہنگ، چوہدری لیاقت علی بھی موقع پر پہنچے۔ انہوں نے نعش کو سیدھا کیا، انگوٹھے باندھے، سفید کپڑا ڈالتے ہوئے کہا:
“ہم سب نے بھی اس دنیا سے جانا ہے، میت کو اسلامی پروٹوکول کے مطابق عزت سے رکھیں”
یہ جملہ محض ہمدردی نہیں تھا، یہ یاد دہانی تھی کہ تفتیش صرف فائل نہیں، انسان سے جڑی ذمہ داری ہے۔ جب تفتیشی افسر نے بتایا کہ وقوعہ کا مقام معلوم نہیں اور ملزم کا کوئی سراغ نہیں، تو چوہدری لیاقت علی نے ایک تجربہ کار افسر کی طرح وہ ہدایت دی جو کتابوں میں نہیں ملتی۔ انہوں نے کہا کہ نہر کے بائیں جانب مخالف سمت میں دو سے اڑھائی کلومیٹر پیدل جائیں، سراغ مل جائے گا۔ گرمی، تھکن اور مایوسی کے باوجود ٹیم نکلی، مگر ایک کلومیٹر بعد واپس اطلاع دی کہ کچھ ہاتھ نہیں آیا۔ یہاں ایک عام افسر کیس بند کر دیتا، مگر چوہدری لیاقت علی نے ہار نہیں مانی۔ انہوں نے انسپکٹر رضوان منظور کو کہا۔ آپ بھی تھک جائیں گے، مگر اس کیس کا سراغ لگانا ضروری ہے۔ سرکاری گاڑی ون وے ہی لے جائیں، اور دیکھتے جائیں کہ خون کے قطرے کہاں ملتے ہیں۔

سوال یہ نہیں کہ پولیس کی گاڑی ون وے کیوں گئی، اصل سوال یہ ہے کہ کیا ہماری تفتیش درست سمت میں جا رہی ہے؟ کیونکہ جب تفتیش زندہ ہوتی ہے تو لاشیں بولتی ہیں، اور جب تفتیش مر جائے تو انصاف کا جنازہ خاموشی سے اٹھا لیا جاتا ہے۔




