Benaqab News | Welcome to Benaqab News Network
    Facebook Twitter Instagram
    Benaqab News | Welcome to Benaqab News NetworkBenaqab News | Welcome to Benaqab News Network
    • ہوم
    • اہم ترین
    • پاکستان
    • شہر شہر کی خبریں
    • دنیا کی خبریں
    • صحت
    • انٹرٹینمنٹ
    • کھیل
    • بزنس
    • ٹیکنالوجی

      ایپل کا تاریخی قدم: پہلی بار ٹچ اسکرین میک بُک کی تیاری

      کیسا ہوگا سام سنگ کا جدید ترین فون? گلیکسی ایس 27 الٹرا کے نئے ڈیزائن، طاقتور بیٹری اور شاندار فیچرز سے متعلق تفصیلات لیک

      فٹنس سرٹیفیکیٹ لینے کی مدت بڑھا دی گئی، لاہور میں اب مصنوعی بارش کی ضرورت نہیں پڑے گی: مریم اورنگزیب

      ایمازون کا تاریخی قدم: پہلی بار اینڈرائیڈ اور ‘الیکسا پلس’ سے لیس مہنگے ٹیبلٹس متعارف

      دنیا کی پہلی ‘نیوکلیئر کلاک’ تیار

    • بلاگ
    • ویڈیوز

        بھٹ شاہ رورل ہیلتھ سینٹر کی  غفلت سے خاتون اور نومولود جاں بحق

      جشنِ آزادی کے سلسلے میں ضلع بھر میں مختلف تقریبات کا سلسلہ جاری

      ہیومین ویلفیئر آرگنائزیشن پاکستان کے زیر اہتمام ریلی نکالی گئی

      عالمگیر ویلفیئر ٹرسٹ اور جامع مدرسہ منصورہ ہالا کے مشترکہ تعاون سے مفت میڈیکل کیمپ کا انعقاد

      جشنِ آزادی کے سلسلے میں مغل ویلفیئر اتحاد ہالا کی جانب سے ریلی نکالی گئی

    Benaqab News | Welcome to Benaqab News Network

    قانون شکنی یا فرض شناسی؟ ایک“ون وے“ نے سچ تک پہنچا دیا پنجاب پولیس کی وہ مثال جو کتابوں میں نہیں ملتی

    Facebook Twitter LinkedIn WhatsApp
    Share
    Facebook Twitter Email WhatsApp

    تحریر:اسد مرزا
    جہاں لفظ بے نقاب ہوں۔۔۔ وہیں سے سچ کا آغاز ہوتا ہے۔

    کسی بھی معاشرے میں انصاف کی بنیاد مضبوط تفتیش پر ہوتی ہے۔ تفتیش کا پہلا مرحلہ دراصل پورے کیس کی ریڑھ کی ہڈی ہوتا ہے۔ پہلی تفتیش کی مثال بالکل ایسی ہے جیسے کسی مریض کا آپریشن کوئی عطائی ڈاکٹر کر دے۔ مرض وہیں بگڑ جاتا ہے۔ بعد میں آپ اسے کسی مہنگے ہسپتال لے جائیں، انتہائی تجربہ کار اور ماہر ڈاکٹر سے علاج کروائیں، تب بھی مریض کی حالت سنبھلنا مشکل ہو جاتی ہے۔ یہی اصول فوجداری تفتیش پر لاگو ہوتا ہے۔ اگر ابتدائی تفتیش غلط، لاپرواہ یا بدنیتی پر مبنی ہو تو بعد میں چاہے جتنی مرضی انکوائریاں، سپروائزری افسران یا اعلیٰ سطح کی تحقیقات کیوں نہ ہو جائیں، انصاف اکثر بحال نہیں ہو پاتا۔ تفتیشی افسر کی نیت، دلچسپی اور دیانت اگر زندہ ہو تو اندھا کیس بھی بول اٹھتا ہے، اور اگر یہی افسر لاپرواہی یا بدنیتی سے کام لے تو زندہ سچ دفن ہو جاتا ہے۔ المیہ یہ ہے کہ ایسے میں چاہے تفتیشی افسر کو بعد میں سزا ہی کیوں نہ مل جائے، انصاف کا قتل تو اسی لمحے ہو چکا ہوتا ہے جب کیس بگاڑا جاتا ہے اور فائدہ ہمیشہ ملزم کو پہنچتا ہے۔ پنجاب میں آج ہم ایک عجیب تضاد دیکھتے ہیں۔ عام شہری ٹریفک قوانین کی معمولی خلاف ورزی پر ہزاروں روپے جرمانہ ادا کرتا ہے، مگر ایک سرکاری پولیس وین ون وے چلتی ہے، لوگ غصے سے دیکھتے رہ جاتے ہیں، اور قانون کی گاڑی نہیں رکتی۔ بظاہر یہ قانون شکنی ہے، مگر کبھی کبھی یہی “غلط راستہ” کسی بڑی سچائی تک پہنچنے کا ذریعہ بن جاتا ہے بشرطیکہ نیت صاف ہو۔ یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب ایک لاوارث لاش نہر سے برآمد ہوئی۔ اگر معاملہ رسمی کارروائی تک محدود رہتا تو نعش دفنا دی جاتی، فائل بند ہو جاتی، اور پولیس بھی ملزم کی طرح آزاد ہو جاتی۔ مگر یہاں فرق ایک افسر نے پیدا کیا ڈی ایس پی چوہدری لیاقت علی نے۔ وہ افسر جو ایس ایس پی کرائم برانچ سے ریٹائر ہوئے اور اب اس دنیا میں نہیں، مگر ان کی تفتیش آج بھی زندہ مثال ہے۔

    2006 میں موضع مل مانگا منڈی لاہور کے قریب نہر میں تیرتی لاش پل کے نیچے جھاڑیوں میں پھنس گئی۔ اطلاع ملنے پر ٹی ایس آئی حسنین حیدر شاہ موقع پر پہنچے، نعش نکلوائی، کوائف نوٹ کیے۔ کچھ دیر بعد ڈی ایس پی سرکل چوہنگ، چوہدری لیاقت علی بھی موقع پر پہنچے۔ انہوں نے نعش کو سیدھا کیا، انگوٹھے باندھے، سفید کپڑا ڈالتے ہوئے کہا:
    “ہم سب نے بھی اس دنیا سے جانا ہے، میت کو اسلامی پروٹوکول کے مطابق عزت سے رکھیں”
    یہ جملہ محض ہمدردی نہیں تھا، یہ یاد دہانی تھی کہ تفتیش صرف فائل نہیں، انسان سے جڑی ذمہ داری ہے۔ جب تفتیشی افسر نے بتایا کہ وقوعہ کا مقام معلوم نہیں اور ملزم کا کوئی سراغ نہیں، تو چوہدری لیاقت علی نے ایک تجربہ کار افسر کی طرح وہ ہدایت دی جو کتابوں میں نہیں ملتی۔ انہوں نے کہا کہ نہر کے بائیں جانب مخالف سمت میں دو سے اڑھائی کلومیٹر پیدل جائیں، سراغ مل جائے گا۔ گرمی، تھکن اور مایوسی کے باوجود ٹیم نکلی، مگر ایک کلومیٹر بعد واپس اطلاع دی کہ کچھ ہاتھ نہیں آیا۔ یہاں ایک عام افسر کیس بند کر دیتا، مگر چوہدری لیاقت علی نے ہار نہیں مانی۔ انہوں نے انسپکٹر رضوان منظور کو کہا۔ آپ بھی تھک جائیں گے، مگر اس کیس کا سراغ لگانا ضروری ہے۔ سرکاری گاڑی ون وے ہی لے جائیں، اور دیکھتے جائیں کہ خون کے قطرے کہاں ملتے ہیں۔

    ساڑھے تین کلومیٹر بعد نہر کے کنارے خون کے قطرے ملے۔ وہی قطرے ٹیم کو جائے واردات تک لے گئے۔ مقامی لوگوں نے بتایا کہ رات یہاں فائرنگ کی آواز سنی گئی تھی۔ مقدمہ درج ہوا، ملزم گرفتار ہوا۔ بعد ازاں معلوم ہوا کہ مقتول وکیل تھا، قصور میں وکلا کا احتجاج شروع ہوا، اغوا برائے تاوان اور قتل کا مقدمہ درج ہوا، اور ملزم قصور پولیس کے حوالے کر دیا گیا۔ یہ کیس اس بات کا واضح ثبوت تھا کہ تفتیش کا دارومدار جدید ٹیکنالوجی پر نہیں، بلکہ افسر کے دماغ، تجربے اور ایمانداری پر ہوتا ہے۔ چوہدری لیاقت علی کی اصل میراث ان کے شاگرد ہیں۔ ڈی ایس پی رضوان منظور، جو آج سی سی ڈی میں تعینات ہیں، اور ڈی ایس پی حسنین حیدر شاہ، جو سول لائنز لاہور میں انویسٹی گیشن کی ذمہ داری نبھا رہے ہیں۔ وہ افسر جو سیکھنا چاہتے تھے، چوہدری لیاقت علی انہیں اپنے ساتھ رکھتے، طریقے سکھاتے، تاکہ علم کی روشنی آگے منتقل ہوتی رہے۔ افسوس یہ ہے کہ پنجاب پولیس میں غلام محمد کلیار اور احمد خان چڈھر جیسے ماہر تفتیشی افسران بھی گزرے، مگر نہ ان کے تجربے سے استفادہ کیا گیا، نہ تفتیشی کورسز میں ان کے لیکچر رکھے گئے۔ اللہ تعالیٰ نے اس محکمے کو محنتی اور دیانت دار افسران سے نوازا، مگر ہم نے ان کی قدر نہ کی۔

    سوال یہ نہیں کہ پولیس کی گاڑی ون وے کیوں گئی، اصل سوال یہ ہے کہ کیا ہماری تفتیش درست سمت میں جا رہی ہے؟ کیونکہ جب تفتیش زندہ ہوتی ہے تو لاشیں بولتی ہیں، اور جب تفتیش مر جائے تو انصاف کا جنازہ خاموشی سے اٹھا لیا جاتا ہے۔

    Related Posts

    "ملتان پولیس میں تبدیلی کی کہانی”: میرٹ کی جیت ، سازش ناکام ، اختر فاروق نے چارج سنبھال لیا

    وفاقی حکومت کا خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی نافذ کرنے کا فیصلہ، کل کابینہ سے منظوری کا امکان

    یونیورسٹی آف سیالکوٹ کا دوسرا کانووکیشن

    مقبول خبریں

    "ملتان پولیس میں تبدیلی کی کہانی”: میرٹ کی جیت ، سازش ناکام ، اختر فاروق نے چارج سنبھال لیا

    جنتر منتر پر احتجاج کو ناکام بنانے کے لیے وسیع پیمانے پر کریک ڈاؤن

    ورلڈ مینٹل ہیلتھ ڈے: 7 میں سے ایک شخص دماغی صحت کے مسائل سے پریشان

    روس کا یوکرین پر ہلاکت خیز گلائیڈ بم حملہ: 3 بچوں سمیت 15 افراد جاں بحق

    ایران کے میزائل کارخانے محفوظ اور ذخیرے میں اضافہ جاری: بلومبرگ کا دعویٰ، امریکا اور اسرائیل کی نئی حکمت عملی

    بلاگ

    ریت کی دیوار پر بیٹھا پختونخوا کا اقتدار اور آرٹیکل 232 کی گونج

    اکیس سال بعد بھی ایک ہی سوال، آخر ہم کب سنبھلیں گے؟

    بہتر تعلیم کے لیے اسکول، استاد اور والدین کا ساتھ

    سوچیئے۔ ضرور سوچئیے گا

    آئی جی جیل خانہ جات کو دی گئی رشوت کی رقم کہاں سے آئی؟ بڑے راز کھل گئے افسران پریشان،ایک اہم ملاقات میں عملدرامد کرانے والا سیل خاموش،ملتان سی پی او کا تبادلہ خطرے میں، اختر فاروق انتظار میں

    Facebook Twitter Instagram Pinterest
    • Disclaimer
    • Terms & Conditions
    • Contact Us
    • privacy policy
    Copyright © 2024 All Rights Reserved Benaqab Tv Network

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.