کوئٹہ :بلوچستان کے ضلع لسبیلہ کی پولیس نے ایک سرکاری بینک سے 20 کروڑ روپے سے زائد کی ڈکیتی کے الزام میں تین ملزمان کو گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ واردات میں پانچ افراد ملوث تھے جو لسبیلہ یونیورسٹی کے موجودہ یا سابق طالب علم ہیں۔
ایس ایس پی لسبیلہ نجیب اللہ پندرانی نے جمعرات کو پریس کانفرنس میں بتایا کہ فروری 2025 میں ہونے والی ڈکیتی کے مبینہ ماسٹر مائنڈ زوہیب بھی لسبیلہ یونیورسٹی کا طالب علم ہے۔
پولیس نے تحقیقات کے دوران پانچ ملزمان کی شناخت کی جن میں زوہیب بلال اکرم مرتضیٰ جواد اور بلال حمید شامل ہیں۔ پولیس کا دعویٰ ہے کہ ان پانچوں نے ڈکیتی کی منصوبہ بندی بھی خود کی اور اسے انجام بھی خود دیا۔
ایس ایس پی کے مطابق تین ملزمان پکڑے گئے ہیں جبکہ باقی ملزمان کی گرفتاری اور لوٹی گئی رقم کی مزید برآمدگی کے لیے کارروائی جاری ہے۔
ایس ایس پی نے بتایا کہ زوہیب کو خفیہ اطلاع پر حراست میں لیا گیا اور ان کے قبضے سے ایک بندوق برآمد ہوئی جس پر الگ مقدمہ درج کیا گیا۔ ان کے مطابق بعد ازاں تفتیش کے دوران زوہیب نے ڈکیتی میں ملوث دیگر افراد اور رقم کی تقسیم کی تفصیلات بتائیں۔ایس ایس پی کے مطابق زوہیب کے بینک اکاؤنٹس کی تفصیلات پولیس کے لیے اہم ثابت ہوئیں۔ ڈکیتی سے پہلے ان کے اکاؤنٹ میں چند ہزار روپے کے لین دین ہوتے تھے لیکن گزشتہ ڈیڑھ سال میں تقریباً 17 کروڑ روپے کی ٹرانزیکشنز سامنے آئیں۔
ان کا کہنا ہے کہ رقم کی منتقلی میں کرشنا نامی مقامی کاروباری شخص کا اکاؤنٹ بھی استعمال ہوا جس کے ذریعے تقریباً پونے تین کروڑ روپے کی ٹرانزیکشنز کی گئیں۔
ایس ایس پی کے مطابق کاروباری شخص نے ان ٹرانزیکشنز کا اعتراف کیا ہے اور مجسٹریٹ کے سامنے ضابطہ فوجداری کی دفعہ 164 کے تحت بیان ریکارڈ کرایا ہے۔
واضح رہے کہ اس دفعہ کے تحت مجسٹریٹ کے سامنے ریکارڈ کیا گیا بیان عدالت میں شہادت کے طور پر پیش کیا جا سکتا ہے۔
پولیس کے مطابق ملزمان کے موبائل فونز سے چیٹس اور دیگر تکنیکی شواہد بھی ملے ہیں جنہیں مزید فرانزک تجزیے کے لیے پنجاب فرانزک سائنس ایجنسی بھیجا جا رہا ہے۔یہ ڈکیتی فروری 2025 میں کراچی سے تقریباً 120 کلومیٹر دور ضلع لسبیلہ کے شہر اوتھل میں صبح تقریبا ساڑھے آٹھ سے نو بجے کے درمیان ہوئی۔ پولیس کے مطابق مسلح افراد نے نیشنل بینک اوتھل کو لوٹا اور فرار ہو گئے۔
ایس ایس پی کے مطابق ملزمان نے واردات کے لیے پہلے سرخ رنگ کی سرف گاڑی حاصل کی جس کا رنگ واردات سے ایک رات قبل تبدیل کرکے سیاہ کر دیا گیا۔
ان کا کہنا تھا کہ ملزمان نے ڈکیتی کے دوران فرنٹیئر کور (ایف سی) کی وردیاں پہن رکھی تھیں جو مبینہ طور پر آن لائن بیرون ملک سے منگوائی گئی تھیں۔
گرفتار ملزمان زوہیب بلال اکرم اور مرتضیٰ آپس میں رشتہ دار ہیں۔ بلال اکرم اور مرتضیٰ زوہیب کے ماموں زاد اور خالہ زاد ہیں۔
افسر کے مطابق زوہیب اور مرتضیٰ یونیورسٹی کے طالب علم ہیں جبکہ بلال اکرم بی بی اے کی تعلیم مکمل کر چکے ہیں۔ باقی دو ملزمان زوہیب کے بچپن کے دوست ہیں اور وہ بھی لسبیلہ یونیورسٹی میں زیرِ تعلیم رہے ہیں۔
پولیس افسر کے مطابق ابتدا میں پولیس کو شبہ تھا کہ اس واردات میں کوئی کالعدم تنظیم ملوث ہو سکتی ہے جو اس سے قبل صوبے میں مختلف بینکوں میں ڈکیتیاں کر چکی ہے۔ بعد میں معلوم ہوا کہ یہ چند یونیورسٹی طلبہ کی واردات ہے جو آپس میں رشتہ دار اور دوست ہیں۔
افسر کا کہنا ہے کہ اس منصوبے کے مرکزی کردار زوہیب تھے جنہوں نے باقی افراد کو یکجا کرکے منصوبہ بنایا۔
ان کے مطابق زوہیب نے دورانِ تفتیش اعتراف کیا کہ وہ بینک ڈکیتی پر بننے والی ہالی ووڈ اور بالی ووڈ کی فلمیں اور ویب سیریز دیکھ کر متاثر ہوئے اور ان سے آئیڈیاز لے کر واردات کا منصوبہ بنایا۔
افسر کا کہنا تھا کہ ملزم شاید خود کو منی ہائسٹ کا پروفیسر سمجھتا تھا۔
واضح رہے کہ منی ہائسٹ ہسپانوی زبان کی مقبول ویب سیریز ہے جو نیٹ فلکس پر دکھائی گئی۔ اس میں پروفیسر کے نام سے معروف کردار ڈاکوؤں کے ایک گروہ کو سپین کے رائل منٹ یعنی کرنسی چھاپنے والے سرکاری ادارے میں ڈکیتی کے لیے منظم کرتا ہے اور پوری کارروائی کی منصوبہ بندی کرتا ہے۔

