ویب ڈیسک
ہندوستانی سرحدوں کی سکیورٹی سے متعلق ایک انتہائی اہم اور سنسنی خیز انکشاف سامنے آیا ہے۔ آئی ٹی بی پی (انڈو تبت بارڈر پولیس) کے ڈائریکٹر جنرل شترجیت کپور نے ایک تقریب سے خطاب کے دوران تصدیق کی ہے کہ اروناچل پردیش میں لائن آف ایکچوئل کنٹرول (LAC) پر ہندوستانی اور چینی فوجیوں (پی ایل اے) کے درمیان کئی مقامات پر جھڑپیں اور آمنے سامنے کی کشمکش (Face-offs) جاری ہے۔ ڈی جی آئی ٹی بی پی نے چین کی عسکری جدید کاری پر بات کرتے ہوئے اسے ہندوستان کا سب سے بڑا اسٹریٹجک حریف قرار دیا ہے۔اس سنسنی خیز انکشاف کے بعد ملکی سیاست میں طوفان آ گیا ہے اور اپوزیشن جماعت کانگریس نے نریندر مودی حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ کانگریس نے سوال اٹھایا ہے کہ ایک طرف حکومت کی جانب سے سرحدی حالات مکمل طور پر معمول پر ہونے کے دعوے کیے جاتے ہیں، وہیں خود سکیورٹی فورسز کے اعلیٰ ترین سربراہ کا اروناچل پردیش میں مسلسل تصادم کی تصدیق کرنا حکومتی بیانیے کی قلعی کھولتا ہے۔ کانگریس نے مطالبہ کیا ہے کہ حکومت اس انتہائی حساس قومی سلامتی کے معاملے پر عوام سے سچ بولے اور وزیر اعظم خود ملک کو اصل صورتحال سے باخبر کریں۔

