واشنگٹن: امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے اسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیٹن یاہو کی دوبارہ انتخاب کی مہم کی حمایت کرنے سے معذرت کر لی ہے، جس سے انہوں نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اسرائیلی رہنما کی حمایت کے محض ایک دن بعد خود کو اس موقف سے الگ کر لیا ہے۔ صحافی مارک ہالپرن کو دیے گئے ایک انٹرویو میں وینس نے کہا کہ امریکی یا بین الاقوامی سیاسی تاریخ میں سب سے بااثر توثیق صدر کی ہی ہوتی ہے، تاہم وہ خود صرف امریکی امیدواروں کی حمایت کرتے ہیں اور ان کی تمام تر توجہ آنے والے امریکی مڈٹرم انتخابات پر مرکوز ہے۔ نارتھ کیرولائنا میں ریپبلکن سینیٹ کے امیدوار مائیکل واٹلی کی انتخابی مہم کے سلسلے میں سفر کے دوران انہوں نے واضح کیا کہ وہ اسرائیلی انتخابات میں کوئی مداخلیت نہیں کرنا چاہتے۔ یاد رہے کہ وینس اس سے قبل ہنگری کے بائیں بازو کے رہنما وکٹر اوربان کے لیے مہم چلا چکے ہیں، لیکن نیٹن یاہو کے معاملے پر ان کا یہ محتاط رویہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی یہودیوں اور اسرائیل کے ساتھ امریکی تعلقات انتہائی حساس موڑ پر ہیں۔ جے ڈی وینس کو امریکی یہودی ریپبلکنز کی جانب سے اسرائیل کے ساتھ اتحاد اور امریکی یہودیوں کے تحفظ سے متعلق شدید تحفظات اور تنقید کا سامنا رہا ہے، جبکہ گزشتہ دنوں انہوں نے لاس ویگاس میں ریپبلکن جیوش کولیشن سے بھی ملاقات کی تھی۔ وینس ماضی میں تکرار کے ساتھ یہ اعتراض بھی اٹھا چکے ہیں کہ اسرائیلی حکومت کے کچھ عناصر ٹرمپ کی جانب سے ایران کے ساتھ جنگ ختم کرنے کی کوششوں میں رکاوٹ بن رہے ہیں اور امریکی عوامی رائے کو متاثر کر کے جنگ کو غیر معینہ مدت کے لیے طویل کرنا چاہتے ہیں، جس کے باعث ان کے اور اسرائیلی قيادت کے درمیان تناؤ کی کیفیت برقرار ہے۔
نیٹن یاہو کی حمایت سے نائب صدر جے ڈی وینس کا انکار، ڈونلڈ ٹرمپ کے موقف سے الگ راہ اختیار کر لی

