نئی دہلی: بھارتی پنجاب کے علاقے پھگواڑہ میں واقع لولی پروفیشنل یونیورسٹی (ایل پی یو) میں ایک طالبہ کے ساتھ مبینہ زیادتی کے واقعے کے خلاف شروع ہونے والا احتجاج شدت اختیار کرتے ہوئے پرتشدد شکل اختیار کر گیاواقعے میں وفاقی وزیر داخلہ امیت شاہ کا بھتیجا ملوث ہے بھارتی پنجاب پولیس نے تصدیق کردی۔
Punjab Police confirm that the nephew of Home Minister of India ‘Amit Shah’ was involved in LPU (Lovely Professional University( incident which happened in GH3 Hostel in room 116.
Special teams have been sent to Delhi to arrest him pic.twitter.com/dbd44KdH39
— DC (@Divyanshu555) September 29, 2026
اتوار کی رات تقریباً ایک بجے گرلز ہاسٹل کے قریب شروع ہونے والا یہ احتجاج دیکھتے ہی دیکھتے قابو سے باہر ہو گیا۔ طلبہ کا الزام تھا کہ تین دن قبل ایک بیرونی شخص (پلمبر) نے ہاسٹل کی ایک طالبہ کو زیادتی کا نشانہ بنایا، اور ہاسٹل وارڈن کو اطلاع دینے کے باوجود کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔ تاہم، یونیورسٹی انتظامیہ اور پولیس کی جانب سے ان الزامات کی سختی سے تردید کی گئی ہے اور پولیس کا کہنا ہے کہ ابتدائی تحقیقات میں ایسے کسی دعوے کے شواہد نہیں ملے۔
#BREAKING Violent protests erupted at #LovelyProfessionalUniversity following sexual assault allegations and suicide rumours. Police registered an FIR and formed an SIT, while LPU denied the claims as false
#Punjab #CampusSafety #LPUHostel@lpuuniversity @PunjabPoliceInd pic.twitter.com/Xb7ogIp4dr— jarvis ☠️ (@Vishii14) September 28, 2026
احتجاج کے دوران کیمپس میں شدید ہنگامہ آرائی دیکھنے میں آئی۔ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ڈرامائی ویڈیوز میں مشتعل طلبہ کو یونیورسٹی کے اندر کھڑکیوں کے شیشے، اے ٹی ایم اور دکانوں میں توڑ پھوڑ کرتے اور اشیاء کو نذرِ آتش کرتے دیکھا گیا۔ اس دوران کچھ طلبہ کیمپس میں نمائش کے لیے رکھے گئے ریٹائرڈ MiG-23 لڑاکا طیارے اور فوجی ٹینک پر بھی چڑھ گئے۔
پر تشدد احتجاج کا دائرہ کار نیشنل ہائی وے 44 (دہلی-امرتسر ہائی وے) تک پھیل گیا، جہاں طلبہ نے طویل دھرنا دے کر ٹریفک کا نظام درہم برہم کر دیا۔ سڑک واہ گزار کرانے کی کوشش کرنے پر مظاہرین نے پولیس پر پتھراؤ اور بوتلیں برسائیں، جس کے جواب میں پولیس نے لاٹھی چارج اور آنسو گیس کا استعمال کیا۔ جھڑپوں کے دوران متعدد پولیس اہلکار زخمی ہوئے جبکہ پولیس کی دو گاڑیوں کو بھی آگ لگا دی گئی۔
صورتحال کی سنگین نوعیت کو دیکھتے ہوئے انتظامیہ نے یونیورسٹی میں پولیس کے 2 ہزار سے زائد اہلکار تعینات کر دیے ہیں۔ پولیس نے نامعلوم افراد کے خلاف ایف آئی آر درج کر کے ایک خصوصی تحقیقاتی ٹیم (SIT) تشکیل دے دی ہے جو سی سی ٹی وی فوٹیج اور ڈیجیٹل شواہد کا جائزہ لے رہی ہے۔
دوسری جانب، یونیورسٹی انتظامیہ نے پیر سے اگلے 10 دنوں کے لیے معمول کی تمام کلاسز معطل اور مڈ ٹرم امتحانات تاحکمِ ثانی ملتوی کرتے ہوئے طلبہ کو والدین کی مشاورت سے آبائی علاقوں میں واپس جانے کی اجازت دے دی ہے۔گرفتاری اور متاثرہ خاتون کے موبائل فونز کی برآمدگی کے لیے بھی مزید کارروائی جاری ہے۔۔
Phagwara, Punjab | Students leave for home as Lovely Professional University (LPU) suspends regular classes for 10 days from 28th September and postpones Mid-Term Examinations, following a protest by students that turned violent
Early morning visuals from outside the campus.…
— R J (@rahuljaitley) September 28, 2026


