لاہور:مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما اور سابق وفاقی وزیر خواجہ سعد رفیق نے سوشل میڈیا پر اپنے ایک تفصیلی اور فکر انگیز بیان میں ملکی سیاسی، معاشی اور آئینی بحران پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے ریاستی اداروں، مقتدرہ اور سیاسی اشرافیہ کو ملک کی ابتر حالت کا براہِ راست ذمہ دار قرار دیا ہے۔
"آوازِ دروں” کے عنوان سے جاری کردہ اپنے اس بیان میں خواجہ سعد رفیق نے دوٹوک الفاظ میں کہا ہے کہ پاکستان کے مسائلستان بن جانے کی سب سے بڑی وجہ ملک کے آئین، قانون اور نظامِ عدل و سیاست کے ساتھ بار بار کیا جانے والا کھلواڑ ہے، اور اسی بے حرمتی نے ملک میں گورننس کا شدید بحران پیدا کیا ہے۔ انہوں نے تنقید کرتے ہوئے کہا کہ پاکستانی اشرافیہ اور مقتدرہ کی اقتدار سمیٹنے کی ہوس، اقربا پروری، بددیانتی، خود پسندی اور خبطِ عظمت نے ہمیں معاشی بدحالی، لاقانونیت اور انتہا پسندی کی دلدل میں دھکیل دیا ہے۔
Voice Of The Heart —•—
The primary reason Pakistan has become a hotbed of crises is the repeated subversion of the country's constitution, laws, and systems of justice and governance; this very disrespect has precipitated a governance crisis.
The Pakistani ruling elite around…
— Khawaja Saad Rafique (@KhSaad_Rafique) September 14, 2026
سابق وفاقی وزیر نے اس خرابات اور بحران کے ذمہ داروں کا تعین کرتے ہوئے مارشل لا مائنڈ سیٹ رکھنے والوں، اقتدار پرست سیاستدانوں، نظریہِ ضرورت کے تحت فیصلے دینے والی عدلیہ، مذہبی انتہا پسندی پھیلانے والے علماءِ سو، شاہانہ مزاج بیوروکریسی اور مفاد پرست میڈیا کو کڑے ہاتھوں لیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اپنے نظریات، جمہوری اصولوں اور عوامی وعدوں سے بار بار رُوگردانی کرنے والی سیاسی قوتیں عوام کا اعتماد اس حد تک مجروح کر چکی ہیں کہ اب ان کے انتہا پسندانہ حلقوں (Cult Followers) کے علاوہ کوئی بھی ان پر اعتبار کرنے کو تیار نہیں۔
خواجہ سعد رفیق نے خبردار کیا کہ یہ ایک انتہائی پریشان کن صورتحال ہے جس کے نتیجے میں خدانخواستہ حالات سب کے قابو سے باہر ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ پاکستان کے تمام ریاستی ادارے اور سیاسی قوتیں خود احتسابی کے کڑے عمل سے گزریں، اصلاحِ احوال کی سنجیدہ کوشش کریں اور اپنے سہانے خوابوں کی دنیا سے باہر نکل کر تلخ حقائق کا سامنا کریں۔ دہشت گردی، سیاسی انارکی، معاشی زبون حالی اور ناانصافی کا خاتمہ صرف اور صرف آئین و قانون کی کامل حکمرانی سے ہی ممکن ہے۔
اپنے بیان کے آخر میں انہوں نے سول سوسائٹی کو متحرک ہونے کا مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ اب ایسا لگتا ہے کہ یہ اصلاحی کام سول سوسائٹی کو ہی کرنا ہوگا، جہاں تعلیم یافتہ اور باشعور افراد جماعتی اور گروہی وابستگیوں سے بالاتر ہو کر اپنے حلقۂ اثر میں تھنکرز فورم اور اصلاحاتی گروپس تشکیل دیں، کھل کر مکالمہ کریں اور بغیر کسی خوف یا تعصب کے اپنی سوچ کو پبلک کریں۔

