حافظ اصغر علی چیمہ، تمام مکاتب فکر کے علماء کرام، مسیحی، ہندو، سکھ اور دیگر اقلیتی برادریوں کے راہنماؤں کی شرکت
سیالکوٹ (سلیم احمد اعوان شیخو)
ضلعی امن و بین المذاہب ہم آہنگی کمیٹی کے زیر اہتمام کیپٹن حافظ ضیاء اللہ شہید کی یاد میں ریفرنس کا انعقاد کانفرنس روم دفتر ڈپٹی کمشنر میں ہوا جس کی صدارت ڈپٹی کمشنر اویس مشتاق اور ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر کیپٹن (ر) دوست محمد نے شہید کے والد پروفیسر سعید اللہ کے ہمراہ کی۔
ریفرنس میں کوآرڈینیٹر ضلعی امن کمیٹی حافظ اصغر علی چیمہ، تمام مکاتب فکر کے علماء کرام، مسیحی، ہندو، سکھ اور دیگر اقلیتی برادریوں کے راہنماؤں نے شرکت کی۔ شرکاء نے کیپٹن حافظ ضیاء اللہ شہید کو خراج عقیدت پیش کیا اور ان کے درجات کی بلندی اور مغفرت کے لیے دعا کی۔
اس موقع پر شرکاء نے ملکی دفاع اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں افواج پاکستان کی قربانیوں کو زبردست خراج تحسین پیش کرتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان کے دفاع، سلامتی اور استحکام کے لئے علماء کرام اور اقلیتیں پاک فوج کے شانہ بشانہ کھڑی ہیں۔ مقررین نے کہا کہ تمام اقلیتوں کی عبادت گاہوں میں ملک کی بقا، سلامتی اور حفاظت کے لئے خصوصی دعائیں کی جاتی ہیں۔
ضلعی امن و بین المذاہب ہم آہنگی کمیٹی نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ سیالکوٹ کی کسی اہم شاہراہ، پارک یا تعلیمی ادارے کو کیپٹن حافظ ضیاء اللہ شہید کے نام سے منسوب کیا جائے تاکہ ان کی عظیم قربانی کو ہمیشہ یاد رکھا جا سکے۔
شہید کے والد پروفیسر سعید اللہ نے کہا کہ ہماری ایک ایک سانس اللہ تعالیٰ کی امانت ہے، ضیاء اللہ دین سے محبت کے ساتھ پروان چڑھا اور اکثر اپنی والدہ سے شہادت کے شوق کا اظہار کرتا تھا۔ انہوں نے کہا کہ شہادت ضیاء اللہ کے دل کی آواز تھی، اللہ تعالیٰ نے بیٹے کے دل کی تمنا قبول کرلی۔ انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ ان کے بیٹے کی قربانی کو قبول فرمائے اور اہل خانہ کو اطمینان قلب عطا کرے۔
ڈپٹی کمشنر اویس مشتاق نے کہا کہ آج ہم بے فکر ہو کر امن کے ساتھ زندگی بسر کر رہے ہیں تو یہ ہمارے شہداء کی قربانیوں کی بدولت ہے۔ انہوں نے کہا کہ کیپٹن حافظ ضیاء اللہ شہید نے ملک و قوم کے تحفظ کے لیے عظیم قربانی دی، اللہ تعالیٰ ان کی شہادت کو قبول فرمائے اور لواحقین کو صبر و حوصلہ عطا کرے۔
ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر کیپٹن (ر) دوست محمد نے کہا کہ سب سے عظیم شہادت ملک و قوم کی حفاظت کے لئے جان قربان کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ خوش نصیب ہیں وہ لوگ جو شہادت کا رتبہ حاصل کرتے ہیں۔
کوآرڈینیٹر ضلعی امن کمیٹی حافظ اصغر علی چیمہ نے کہا کہ شہداء ہمارے ماتھے کا جھومر ہیں، ہمارا امن و امان شہداء کے خون کا صدقہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ سیالکوٹ کے ایک اور سپوت نے جان کا نذرانہ پیش کرکے پوری قوم اور اپنے شہر کا سر فخر سے بلند کیا ہے۔
سردار جسکرن سنگھ نے کہا کہ اگر پاک فوج اپنی جانوں کی قربانیاں نہ دے تو دہشت گردی کا خطرہ ہمارے گھروں تک منڈلا رہا ہوتا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ایک امن پسند قوم ہے اور کسی کو ملک میں امن خراب کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔
پاسٹر مارک ہنری نے کہا کہ تمام اقلیتیں دہشت گردوں کے خلاف پاک افواج کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑی ہیں۔ بشپ سراج مسیح نے کہا کہ دہشت گردوں کے ساتھ کسی قسم کی نرمی کی گنجائش نہیں، ملک میں ہر قیمت پر امن برقرار رہنا چاہیے۔
ریفرنس سے مفتی کفایت اللہ شاکر سمیت مختلف مکاتب فکر کے علماء کرام جبکہ پنڈت رتن لال اور پنڈت جشپال نے بھی خطاب کیا اور کیپٹن حافظ ضیاء اللہ شہید کو خراج عقیدت پیش کیا۔
شرکاء نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان کی سلامتی، استحکام اور امن کے لیے پوری قوم متحد ہے اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں افواج پاکستان اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی بھرپور حمایت جاری رکھی جائے گی۔


