بلوچستان رحمت اللہ بلوچ بیوروچیف بے نقاب نیوز)
بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ سردار اختر جان مینگل نے اپنے والدِ محترم سردار عطااللہ مینگل کی پانچویں برسی کے موقع پر گزشتہ سال شاہوانی اسٹیڈیم سریاب کوئٹہ میں ہونے والے خودکش دھماکے کی تحقیقات اور پیش رفت پر سوالات اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ ایک سال گزرنے کے باوجود واقعے کے اصل مجرموں اور ان کے سہولت کاروں تک پہنچنے کے لیے کیے گئے اقدامات سے آگاہ نہیں کیا گیا۔سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں سردار اختر مینگل نے کہا کہ آج نہ صرف سردار عطااللہ مینگل کی پانچویں برسی منائی جا رہی ہے بلکہ گزشتہ سال 2 ستمبر کو ان کی چوتھی برسی کے سلسلے میں منعقدہ جلسے کے دوران شاہوانی اسٹیڈیم سریاب کوئٹہ میں خودکش بم دھماکے کے نتیجے میں ان کے چاہنے والے اور پیروکار شہید جبکہ متعدد افراد زخمی ہوئے تھے۔ایک سال گزرنے کے باوجود ریاست اور ریاستی ادارے، جو ہر موقع پر سیکیورٹی اور خفیہ اداروں کی جانب سے انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کے ذریعے دہشت گردی کے منصوبے ناکام بنانے اور دہشت گردوں کو ہلاک کرنے کے دعوے کرتے ہیں، کیا وہ خود یا شہداء کے لواحقین یہ سوال کرنے کا حق رکھتے ہیں کہ شاہوانی اسٹیڈیم سانحے کی روک تھام کے لیے کیا اقدامات کیے گئے تھے۔سردار اختر مینگل نے سوال اٹھایا کہ واقعے کی تحقیقات میں اب تک کیا پیش رفت ہوئی اور اصل مجرموں و ان کے سہولت کاروں تک پہنچنے کے لیے کیا کارروائی کی گئی؟ کیا اس واقعے کے ذمہ داروں کو بھی قانون کے کٹہرے میں لایا گیا یا انہیں بھی کہیں ’’جنت واصل‘‘ کر دیا گیا؟انہوں نے کہا کہ یہ سوال آخر کس سے کیے جائیں، ذوالفقار علی بھٹو اور بے نظیر بھٹو کے وارثوں سے یا جنرل ضیاء الحق اور لیاقت علی خان کے وارثوں سے؟سردار اختر مینگل نے اپنے بیان کے اختتام پر معروف شعر بھی درج کیا میں کس کے ہاتھ پہ اپنا لہو تلاش کروں تمام شہر نے پہنے ہوئے ہیں دستانے۔


