واشنگٹن :امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ہفتے کے روز واضح کیا ہے کہ واشنگٹن اب بھی ایران کے خلاف بڑے پیمانے پر فوجی کارروائی کے لیے تیار ہے، اگر تہران نے امریکہ کے مطالبات پر عمل نہ کیا۔
فرانسیسی ٹی وی چینل LCI کو دیے گئے انٹرویو میں ٹرمپ نے کہا: حملوں کا عارضی طور پر رک جانا اس بات کا مطلب نہیں کہ ہم پیچھے ہٹ گئے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا:اگر ایران نے ہماری شرائط پوری نہ کیں تو ہم اب بھی اس کے خلاف وسیع فوجی حملہ کرنے کے لیے تیار ہیں۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکہ نے ہفتے کی رات گزشتہ دو ہفتوں میں پہلی بار ایران پر فضائی حملے نہیں کیے۔
واشنگٹن کی جانب سے اب تک اچانک اس فیصلے کی کوئی وضاحت نہیں کی گئی کہ مسلسل 13 راتوں تک جاری رہنے والے بڑھتے ہوئے فضائی حملوں کا سلسلہ کیوں روک دیا گیا۔
امریکی ذرائع ابلاغ کی ان رپورٹس کے بعد کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے فی الحال ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں میں شدت نہ لانے کا فیصلہ کیا ہے، وائٹ ہاؤس نے کہا ہے کہ ایران کے معاملے پر اب بھی ’تمام آپشنز‘ موجود ہیں۔
وائٹ ہاؤس کے ڈائیریکٹر برائے مواصلات سٹیون چونگ نے فاکس نیوز سے گفتگو میں کہا: ’صدر ہمیشہ یہ کہتے آئے ہیں کہ وہ سفارتی حل کو ترجیح دیتے ہیں، لیکن اگر ایران آبنائے ہرمز میں یا ہمارے اتحادیوں کے خلاف شدت پسندانہ سرگرمیاں جاری رکھتا ہے تو (ڈونلڈ ٹرمپ) اپنے تمام آپشنز برقرار رکھے ہوئے ہیں۔‘
انھوں نے مزید کہا: ’ایران کی معیشت کو مفلوج کر دینے والی کامیاب پابندیوں اور اس کی بار بار کی جارحانہ کارروائیوں کے جواب میں فوجی اہداف پر 13 روز تک مسلسل حملوں کے بعد دانش مندانہ راستہ یہی ہو گا کہ ایران کسی معاہدے کے لیے مذاکرات کا رخ کرے، ورنہ وہ جانتے ہیں کہ کیا ہو سکتا ہے۔‘
یہ حملے عارضی معاہدہ ٹوٹنے کے بعد شروع ہوئے تھے اور آبنائے ہرمز میں جہازوں پر ایران کے حملوں کے جواب میں کیے جا رہے تھے۔
ہفتے کے روز ایسی کوئی اطلاعات بھی سامنے نہیں آئیں کہ ایران نے معمول کے مطابق خطے کے دیگر ممالک پر روزانہ کی بنیاد پر حملے کیے ہوں۔
ایران نے مطالبات تسلیم نہ کے تو بڑے پیمانے پر فوجی کارروائی سمیت تمام آپشنز کھلے ہیں، صدر ڈونلڈ ٹرمپ

