وزیراعظم پاکستان محمد شہباز شریف نے لیفٹیننٹ جنرل عامر رضاکو فور اسٹار جنرل کے عہدے پر ترقی دے کر انہیں کمانڈر نیشنل اسٹریٹجک کمانڈ مقرر کر دیا ہے۔
لیفٹیننٹ جنرل سید عامر رضا، ہلالِ امتیاز (ملٹری)، 1988 میں 6 لانسرز میں کمیشن حاصل کرکے پاک فوج میں شامل ہوئے۔ انہوں نے نومبر 2007 سے ستمبر 2009 تک 6 لانسرز کی کمانڈ کی۔ اس کے علاوہ ایک آرمرڈ بریگیڈ، جنوبی وزیرستان میں ایک انفنٹری بریگیڈ، اور ایک انفنٹری ڈویژن کی بھی کمانڈ سنبھالی۔
اسٹاف تقرریوں کے دوران وہ ایک انفنٹری بریگیڈ میں بریگیڈ میجر، چیف آف جنرل اسٹاف کے جی ایس او-2، ایک اسٹرائیک کور کے چیف آف اسٹاف، اور ڈائریکٹوریٹ آف ویپنز اینڈ ایکوپمنٹ کے ڈائریکٹر جنرل کے طور پر خدمات انجام دے چکے ہیں۔
تدریسی ذمہ داریوں میں انہوں نے اسکول آف آرمر اینڈ مکینائزڈ وارفیئر () میں انسٹرکٹر، ڈائریکٹر ، اور کمانڈ اینڈ اسٹاف کالج، کوئٹہ میں چیف انسٹرکٹر کے فرائض انجام دیے۔
انہوں نے 28 اپریل 2020 کو ہیوی انڈسٹریز ٹیکسلا () کی کمانڈ سنبھالی۔ بعد ازاں 11 اکتوبر 2022 کو انہیں ترقی دے کر پاک فوج کے اعلیٰ ترین عہدوں میں سے ایک، لیفٹیننٹ جنرل کے رینک میں ترقی دیدی گئی۔9مئی 2023 کے بعد جب کور کمانڈر لاہور سلمان فیاض غنی کو ہٹا دیا گیا تو لیفٹننٹ جنرل عامر رضا کو وہاں بھیجا گیا اور پھر چیف آف جنرل اسٹاف بنایا گیا اور اب ایک ستارہ اور لگا کر بطور فور اسٹار جنرل انہیں کمانڈر نیشنل اسٹریٹجک کمانڈ تعینات کردیا گیا ہے
دو باتیں قابل ذکر ہیں ،ایک تو فیلڈ مارشل کی طرح سید ہیں اور دوسرا یہ بھی پی ایم اے کے بجائے آفیسرز ٹریننگ کورس کے ذریعے فوج میں شامل ہوئے

