نئی دہلی/تہران: ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی آخری رسومات میں بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی شرکت نہ کرنے کا فیصلہ سفارتی حلقوں میں شدید بحث کا موضوع بن گیا ہے۔ ناقدین اس فیصلے کو بھارت کی جانب سے ’گلوبل ساؤتھ‘ (Global South) اور ابھرتے ہوئے نئے عالمی نظام کے ساتھ یکجہتی نہ دکھانے کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔
سیاسی تجزیہ کاروں اور ناقدین کا کہنا ہے کہ ایک ایسے وقت میں جب دنیا ایک صدی میں آنے والی سب سے بڑی تبدیلیوں سے گزر رہی ہے، بھارت کا یہ اقدام انتہائی بدقسمت ہے۔ ناقدین کے مطابق، بھارت کا یہ رویہ ان ممالک کے ساتھ تعلقات کو متاثر کر سکتا ہے جو موجودہ عالمی نظام میں ترقی، خوشحالی اور امید کی علامت کے طور پر ابھر رہے ہیں۔ اس فیصلے کو ہندوستان کی بدلتی ہوئی ترجیحات اور روایتی اتحادیوں سے دوری کے طور پر تعبیر کیا جا رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی بجائے ایک کم تر سطح کا حکومتی وفد جس میں گورنربہار لیفٹنٹ جنرل عطا حسنین ریٹائر اور وزیر مملکت پبیترا مارگریٹا آیت اللہ خامنہ ای کی آخری رسومات میں بھارت کی نمائندگی کرے گا۔
بھارت اس سال برکس (BRICS) کی صدارت کر رہا ہے، لیکن اس سفارتی فیصلے کے بعد ماہرین کا ماننا ہے کہ اب بھارت سے اس پلیٹ فارم پر کسی بڑی کامیابی یا نئے عالمی ایجنڈے کی توقع رکھنا مشکل ہے۔ تجزیہ کاروں کا دعویٰ ہے کہ اگر بھارت اپنے اہم شراکت داروں کے ساتھ تعلقات میں اسی طرح سرد مہری دکھاتا رہا تو ’گلوبل ساؤتھ‘ کی قیادت کرنے کے اس کے دعوے کمزور پڑ سکتے ہیں۔
اس معاملے پر بھارتی وزارتِ خارجہ کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا گیا ہے، تاہم سفارتی ماہرین اسے ایک اہم موقع گنوانے کے مترادف قرار دے رہے ہیں۔ ایران کے ساتھ تعلقات کی اہمیت کے پیشِ نظر، تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ اس فیصلے سے خطے میں بھارت کے اثر و رسوخ اور ایران کے ساتھ اس کے دیرینہ تعلقات پر گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
تہران کی سرکاری دعوت کے باوجود آیت اللہ خامنہ ای کی آخری رسومات میں مودی شرکت نہیں کرینگے: کم تر سطح کا وفد جائے گا

