پاسدارانِ انقلاب کا اپنے ایک بیان میں کہنا تھا کہ اس کی بحریہ اور فضائیہ نے مشترکہ طور پر یہ کارروائیاں اتوار کو مقامی وقت کے مطابق رات 2:00 بجے سے 3:00 بجے کے درمیان کی ہیں، جس میں آٹھ ’اہم امریکی فوجی تنصیبات‘ کو نشانہ بنایا گیا، جن میں ’کویت میں علی السالم ایئر بیس‘ اور ’بحرین میں سلمان پورٹ پر قائم امریکی پانچویں بحری بیڑے کا ہیڈکوارٹر‘ شامل ہیں۔
خیال رہے اس سے قبل امریکا نے آبنائے ہرمز میں ہفتے کے روز پاناما کے پرچم بردار ایک جہاز پر ڈرون حملے کے بعد ایران پر نئے حملے کرنے کا اعلان کیا تھا۔
امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) کے مطابق اس نے تجارتی جہاز رانی کے خلاف ’مسلسل جارحیت‘ کے جواب میں ایران بھر میں متعدد اہداف کو نشانہ بنایا، جن میں فوجی سازوسامان، مواصلاتی نظام، فضائی دفاعی تنصیبات اور ڈرون ذخیرہ کرنے کے مراکز شامل تھے۔تاہم پاسدارانِ انقلاب نے اپنے بیان میں دعویٰ کیا ہے کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والا بحری ٹریفک ایران اور امریکا کے درمیان پاکستان کی ثالثی میں طے پانے والی مفاہمتی یادداشت کے مطابق ایران کی ذمہ داری کے دائرے میں آتا ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ’آئندہ سے، جو جہاز بھی (ایرانی شرائط کی) خلاف ورزی کرتے ہوئے پائے گئے، ان کے ساتھ پہلے سے زیادہ سختی سے نمٹا جائے گا۔‘
The IRGC released a statement early on Sunday confirming that its navy and air forces have delivered a firm response to the US' recent strikes. pic.twitter.com/Jeb9zek1eG
— IRNA News Agency ☫ (@IrnaEnglish) June 28, 2026
ترجمان ایرانی وزارت خارجہ محسن رضائی کے مطابق امریکی حملے مفاہمتی یاداشت کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔حملوں کے ذمہ دار امریکا اور تعاون کرنے والے ہیں،معاہدے کی خلاف ورزی کا فیصلہ کن جواب دیں گے، امریکا اپنی پراکسیوں کی کاروائیوں کی حمایت کررہا ہے۔ سربراہ ایرانی سلامتی کمیٹی ابراہیم عزیزی نے کہا کہ الزام تراشی کا کھیل مزید نہیں چلے گا، ٹرمپ نے ثابت کیا کہ وہ اصولوں اور معاہدے کے پابند نہیں۔

