واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے کانگریس سے ایران کے ساتھ جاری جنگ کے اخراجات پورے کرنے کے لیے 87.6 ارب ڈالر کی ہنگامی گرانٹ کا مطالبہ کر دیا ہے۔ یہ درخواست ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکی دارالحکومت میں جنگی اختیارات اور صدارتی فیصلوں پر گرما گرم بحث جاری ہے۔
وائٹ ہاؤس کی جانب سے اسپیکر مائیک جانسن کو بھیجے گئے خط میں رقم کی تفصیلات کچھ یوں دی گئی ہیں:
محکمہ دفاع (پینٹاگون): 67 ارب ڈالر، جس میں سے 21 ارب ڈالر گولہ بارود، 17.3 ارب ڈالر آپریشنل اخراجات اور 12.1 ارب ڈالر خفیہ پروگرامز کے لیے مختص ہیں۔
زرعی امداد: کسانوں کے لیے 11.1 ارب ڈالر کا پیکیج۔
صحت عامہ: وسطی افریقہ میں ایبولا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے 1.4 ارب ڈالر۔
انتظامیہ کے اس مطالبے نے کانگریس میں سیاسی کھچاؤ پیدا کر دیا ہے۔ آفس آف مینجمنٹ اینڈ بجٹ کے ڈائریکٹر رس ووگٹ کا اصرار ہے کہ "یہ فنڈز فوری اور ہنگامی ضروریات کے لیے ہیں،” تاہم سینیٹ کی اپروپریشن کمیٹی کی اعلیٰ ڈیموکریٹ رہنما پیٹی مری نے کرارا جواب دیتے ہوئے کہا: "میں اس تباہ کن جنگ کے لیے اربوں ڈالر کی منظوری پر آنکھیں بند کر کے دستخط نہیں کروں گی۔”
صدر ٹرمپ کی ریپلکن پارٹی میں بھی جنگ پر تحفظات
یہ فنڈنگ کی درخواست سینیٹ کی جانب سے ایران کے خلاف فوجی کارروائی کو محدود کرنے والی قرارداد (War Powers Resolution) پاس کرنے کے اگلے ہی دن سامنے آئی ہے۔ اس قرارداد کو چار ریپبلکن سینیٹرز کی حمایت بھی حاصل تھی، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ خود ٹرمپ کی اپنی پارٹی میں بھی جنگ کے حوالے سے تحفظات موجود ہیں۔
اگلا مرحلہ کیا ہوگا؟
اب کانگریس کے ایوانِ نمائندگان اور سینیٹ کے اپروپریشن کمیٹی کے ارکان فیصلہ کریں گے کہ آیا وہ اس ہنگامی فنڈنگ کی درخواست کو من و عن منظور کرتے ہیں یا اسے مذاکرات کی میز پر رکھ کر اس کی کٹائی چھٹائی کرتے ہیں۔
یہ مطالبہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ ایران کے ساتھ جاری تنازعہ اب نہ صرف میدانِ جنگ بلکہ امریکی ایوانوں میں بھی ایک ‘مہنگی اور متنازعہ’ لڑائی بن چکا ہے۔ کیا کانگریس ٹرمپ انتظامیہ کے اس مطالبے کو تسلیم کرے گی یا ایران جنگ کے اخراجات پر سیاستدانوں کے درمیان ایک نئی جنگ چھڑے گی؟ یہ آنے والے دنوں میں واضح ہوگا۔

