لاہور (نمائندہ خصوصی)
وزیر تعلیم پنجاب رانا سکندر حیات نے اعلان کیا ہے کہ پنجاب کا آئندہ مالی سال کا تعلیمی بجٹ گزشتہ سال کی طرح ‘تاریخ ساز’ ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ مریم نواز کی قیادت میں تعلیم کے شعبے میں سرمایہ کاری حکومت کی اولین ترجیح ہے اور اس سال تقریباً 150 ارب روپے کا ڈویلپمنٹ بجٹ لایا جا رہا ہے۔
لاہور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے رانا سکندر حیات نے بتایا کہ یونیورسٹیز کے لیے 24 ارب اور کالجز کے لیے 42 ارب روپے کا بجٹ مختص کیا جائے گا۔ 300 نواز شریف سکول آف ایمینینس اور 5 دانش سکولز بنائے جائیں گے جبکہ مختلف اضلاع میں ‘سنٹر آف ایکسیلینس فار ارلی چائلڈ ہڈ ایجوکیشن’ قائم کیے جائیں گے۔
وزیر تعلیم نے اعلان کیا کہ اساتذہ کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے 50 ہزار ‘کروم بکس’ تقسیم کی جائیں گی جبکہ گوگل سرٹیفائیڈ ٹریننگ کا دائرہ کار مزید وسیع کیا جائے گا۔ طلباء کے لیے لیپ ٹاپ اور اسکالرشپس کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس سال 50 ارب روپے کے لیپ ٹاپ اور 100 ارب روپے تک کی اسکالرشپس دی جائیں گی، جس سے ایک لاکھ سے زائد طلباء مستفید ہوں گے۔
رانا سکندر حیات نے گزشتہ برس کی کارکردگی پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ گزشتہ ایک تعلیمی سال میں 12 ہزار ایڈیشنل کلاس رومز، 8 ہزار باؤنڈری والز اور 7 ہزار ٹائلٹ بلاکس مکمل کیے گئے ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ انفراسٹرکچر میں یہ پیش رفت گزشتہ ادوار کے مقابلے میں تقریباً 600 فیصد زیادہ ہے، جو وزیراعلیٰ پنجاب کی تعلیم پر خصوصی توجہ کا نتیجہ ہے۔وزیر تعلیم نے عزم ظاہر کیا کہ معیارِ تعلیم میں بہتری کا سفر جاری رہے گا اور نئے مالی سال میں بھی تعلیمی اداروں میں سہولیات کی فراہمی کے لیے کوئی کسر نہیں چھوڑی جائے گی۔

