نوشہرو فیروز: رپورٹ سونو کلهوڙو
نوشہرو فیروز کے قریب واقع گاؤں شریف وسن کے رہائشی محمد حنیف کوکر نے اپنی والدہ نصرت کے ہمراہ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ان کی والدہ کی علیحدگی کے بعد انہیں گھر میں اپنا جائز حصہ نہیں دیا جا رہا۔انہوں نے بتایا کہ اس سلسلے میں انہوں نے پولیس کو درخواست دی تھی، لیکن پولیس کی آمد پر برادری کے بااثر افراد نے یہ کہہ کر پولیس کو واپس بھیج دیا کہ وہ خود مسئلہ حل کر لیں گے۔ محمد حنیف کوکر کا الزام ہے کہ بعد میں ماسٹر جمن، سکندر کوکر اور رفیق نے پولیس کو 30 ہزار روپے دے کر واپس کروا دیا، جس کے بعد انہیں گالیاں دی گئیں اور ہراساں کیا گیا۔انہوں نے مزید کہا کہ وڈیرہ جمن نے کہا کہ فیصلہ وہ خود کرے گا، جبکہ ان کے دیوروں کے ساتھ مل کر انہیں تشدد کا نشانہ بھی بنایا گیا اور ان کے بچوں کے ساتھ بھی ناروا سلوک کیا گیا۔محمد حنیف کوکر اور ان کی والدہ نے آئی جی سندھ، ایس ایس پی نوشہرو فیروز اور دیگر متعلقہ حکام سے اپیل کی ہے کہ ان کے ساتھ انصاف کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ وہ غریب اور بے سہارا لوگ ہیں اور مخالفین نے ان کی زندگی اجیرن بنا دی ہے۔

