ایران اور امریکا کے درمیان جاری مذاکرات کے نتائج کے حوالے سے جاری قیاس آرائیوں کے درمیان ایک باخبر ذریعے نے انکشاف کیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بیرونِ ملک منجمد ایرانی اثاثوں کی رہائی کو تہران کے ساتھ عبوری معاہدے پر دستخط سے مشروط کر دیا ہے۔
ذرائع نے جمعرات کے روز العربیہ کو بتایا کہ ٹرمپ نے ثالثی کرنے والے فریقوں کو واضح طور پر آگاہ کر دیا ہے کہ وہ معاہدے پر دستخط سے قبل ایران کے منجمد فنڈز جاری کرنے کے حق میں نہیں ہیں۔
ذرائع کے مطابق امریکی مؤقف یہ ہے کہ مالی رعایتوں یا اثاثوں کی رہائی سے پہلے دونوں ممالک کے درمیان مجوزہ عبوری معاہدے کو باضابطہ شکل دینا ضروری ہے۔
ذرائع نے مزید بتایا کہ بنیادی رکاوٹ منجمد ایرانی فنڈز کے ایک حصے کے استعمال کے طریقۂ کار سے متعلق ہے۔ ان کے مطابق اس حوالے سے ایک تجویز زیرِ غور ہے، جس کے تحت ان منجمد رقوم کو جمع کرنے کے لیے ایک خصوصی فنڈ قائم کیا جا سکتا ہے۔
قبل ازیں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ مذاکرات کے نتائج اس ہفتے کے اختتام تک سامنے آ سکتے ہیں تاہم ان کا ناکام ہونا خارج از امکان نہیں ہے۔ وائٹ ہاؤس کے اوول آفس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے مذاکرات کو بہت اچھا قرار دیا اور ایرانی حکام کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ معاہدے پر دستخط کے قریب ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایران کی صورتحال غیر مستحکم ہے اور کچھ بھی ہو سکتا ہے، لیکن ترجیح ایک تحریری معاہدہ ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے تسلیم کیا کہ ایرانی حکام نے کئی بار اپنی رائے تبدیل کی ہے، لیکن توقع ظاہر کی کہ مستقبل قریب میں کسی وقت معاہدہ ہو جائے گا۔
ایران کے اعلیٰ افزودہ یورینیم کے بارے میں ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ وہ اسے حاصل کرنا چاہتے ہیں اور امریکہ کبھی بھی ایران کو جوہری ہتھیار رکھنے کی اجازت نہیں دے گا۔ انہوں نے تصدیق کی کہ تہران نے تنازع کے خاتمے کے بعد امریکی حکام کو ایران میں دفن شدہ جوہری مواد کی تلاش کے لیے داخل ہونے کی اجازت دینے پر اتفاق کیا ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ یہ مشکل ہے لیکن وہ ایسا کرنا چاہتے ہیں اور اس کام کے لیے درکار سازوسامان صرف امریکا اور چین کے پاس ہے۔
جوہری مقامات کے بارے میں ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ فوردو، نطنز اور اصفہان کے مقامات محفوظ ہیں اور امریکی اسپیس فورس کیمروں کے ذریعے ان کی نگرانی کر رہی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ یہ کوششیں تنازع ختم ہونے کے بعد ہی کی جائیں گی کیونکہ وہ اپنی افواج کو خطرے میں نہیں ڈالنا چاہتے۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو دنیا کے لیے ایک حقیقی مسئلہ قرار دیا اور خطے میں حالیہ جھڑپوں کو معمولی قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس خطے میں جنگ بندی کا مطلب فائرنگ کا کم شدید تبادلہ ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے مزید کہا کہ وہ لبنان سے متعلق مذاکرات کو ایران کے ساتھ ہونے والے مذاکرات سے الگ کرنا چاہتے ہیں، جبکہ تہران دونوں معاملات کو آپس میں جوڑنے پر بضد ہے۔
"تہران اور واشنگٹن میں کشمکش: ایران اثاثوں کی فوری رہائی جبکہ ٹرمپ معاہدے کے دستخط پر بضد”

