نواب شاہ (رپورٹ نفیس آرائیں)
گزشتہ شب آنے والے شدید طوفانِ باد و باراں نے ضلع شہید بینظیرآباد خصوصاً نواب شاہ شہر میں تباہی مچا دی۔ طوفان گزر جانے کے 24 گھنٹے بعد بھی شہر کے بیشتر علاقوں میں بجلی کی فراہمی بحال نہ ہو سکی، جس کے باعث معمولاتِ زندگی مکمل طور پر متاثر ہو گئے ہیں۔ بجلی کی طویل بندش کے باعث شہریوں کو پینے کے پانی، وضو، گھریلو استعمال اور دیگر بنیادی ضروریات کے حصول میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔طوفان کے دوران تیز ہواؤں اور موسلا دھار بارش نے متعدد بجلی کے کھمبے، تاریں اور ٹرانسفارمرز کو نقصان پہنچایا، جس کے نتیجے میں شہر کے کئی علاقے تاریکی میں ڈوب گئے۔ بجلی بند ہونے سے واٹر سپلائی اسکیمیں بھی متاثر ہو گئیں، جس کے باعث گھروں، مساجد اور مدارس میں پانی کا شدید بحران پیدا ہو گیا ہے۔شہریوں کا کہنا ہے کہ بجلی نہ ہونے کی وجہ سے پانی کی موٹریں بند پڑی ہیں، جس کے باعث پینے کے پانی کے ذخائر ختم ہو چکے ہیں۔ متعدد مساجد میں وضو کے لیے پانی دستیاب نہیں جبکہ گھروں میں خواتین، بزرگ اور بچے شدید مشکلات کا شکار ہیں۔ گرمی اور حبس کے باعث بیمار افراد اور بچوں کی پریشانیوں میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔دوسری جانب طوفان نے مواصلاتی نظام کو بھی بری طرح متاثر کیا۔ مختلف علاقوں میں انٹرنیٹ اور موبائل فون سروسز میں تعطل کی اطلاعات موصول ہوئیں جبکہ کئی رابطہ سڑکوں پر درخت گرنے اور بجلی کے کھمبے اکھڑنے کے باعث آمد و رفت میں بھی مشکلات پیش آئیں۔شہری حلقوں نے شکایت کی ہے کہ طوفان گزرنے کے ایک روز بعد بھی کئی علاقوں میں بحالی کا کام سست روی کا شکار ہے اور متعلقہ اداروں کی جانب سے مؤثر اقدامات نظر نہیں آ رہے۔ متاثرہ علاقوں کے مکینوں نے حکومت سندھ، ضلعی انتظامیہ اور بجلی فراہم کرنے والے ادارے سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔شہریوں، سماجی تنظیموں اور تاجروں نے کہا ہے کہ نواب شاہ اس وقت شدید بحران کی کیفیت سے دوچار ہے اور شہر کسی مسیحا کا منتظر دکھائی دیتا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ بجلی کی فوری بحالی، پانی کی فراہمی کی بحالی اور طوفان سے متاثرہ انفراسٹرکچر کی مرمت کے لیے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کیے جائیں تاکہ عوام کو مزید مشکلات سے بچایا جا سکے۔ادھر ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ اداروں کی ٹیمیں نقصانات کا جائزہ لینے اور بحالی کے کاموں میں مصروف ہیں، تاہم شہریوں کا کہنا ہے کہ صورتحال کی سنگینی کے پیش نظر مزید تیز اور مؤثر اقدامات کی ضرورت ہے۔

