سکھر ( رپورٹ /عبد الرحمان راجپوت ) شہرِ سکھر میں الیکٹرک پاور کمپنی کی مبینہ نااہلی اور غلط بلنگ نظام شہریوں کے لیے شدید پریشانی کا باعث بنتا جا رہا ہے۔ مختلف علاقوں سے موصول ہونے والی شکایات کے مطابق ایسے صارفین، جن کا ماہانہ بجلی کا استعمال 50 سے 100 یونٹ تک محدود ہوتا ہے اور جو باقاعدگی سے اپنے بل ادا کرتے ہیں، انہیں بھی ہزاروں روپے کے اضافی “ڈیڈیکشن بل” بھیجے جا رہے ہیں۔شہریوں کا کہنا ہے کہ جو افراد بمشکل 25 ہزار روپے ماہانہ کماتے ہیں اور ہر مہینے ایک ہزار سے پندرہ سو روپے تک بجلی کا بل باقاعدگی سے جمع کرواتے ہیں، انہی پر اچانک 30 ہزار، 40 ہزار اور بعض اوقات اس سے بھی زائد رقم کے ڈیٹیکشن بل ڈال دیے جاتے ہیں۔ عوام کا مؤقف ہے کہ بجلی چوری روکنے میں ناکامی کا بوجھ غریب صارفین پر ڈالنا سراسر زیادتی ہے۔متاثرین کے مطابق جب وہ شکایات کے ازالے کے لیے دفاتر کا رخ کرتے ہیں تو وہاں انہیں ایک میز سے دوسری میز تک چکر لگوائے جاتے ہیں مگر مسئلہ حل نہیں کیا جاتا۔ شہریوں نے الزام عائد کیا کہ ایک طرف بجلی بچانے کی مہمات اور اشتہارات چلائے جاتے ہیں، جبکہ دوسری طرف کم بجلی استعمال کرنے والے صارفین کو ہی ڈیٹیکشن بلز کے ذریعے مالی دباؤ میں لایا جا رہا ہے۔شہر کے مختلف علاقوں میں اس وقت سب سے بڑا مسئلہ غلط بلنگ اور ڈیٹیکشن بن چکا ہے، جس کی وجہ سے عوام ذہنی اذیت اور شدید پریشانی کا شکار ہیں۔ شہریوں نے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ سکھر الیکٹرک پاور کمپنی کے ڈیڈیکشن بلنگ نظام کا فوری آڈٹ کیا جائے، بے بنیاد بلز ختم کیے جائیں اور غریب صارفین کو مزید ذہنی و مالی مشکلات سے بچایا جائے۔
سکھر میں الیکٹرک پاور کمپنی کی مبینہ نااہلی اور غلط بلنگ نظام شہریوں کے لیے شدید پریشانی کا باعث

