کوئٹہ: (بیورو چیف رحمت اللہ بلوچ )

خطاب کے دوران وزیراعظم نے وطنِ عزیز کا دفاع کرتے ہوئے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے بہادر سپوتوں کو زبردست خراجِ تحسین پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ معرکہ حق کے دوران پاک فوج نے جس جرات کا مظاہرہ کیا اور دشمن کی جارحیت کو ناکام بنایا، وہ پوری قوم کے لیے باعثِ فخر ہے۔ وزیراعظم نے فیلڈ مارشل کی قیادت میں افواجِ پاکستان کی تاریخی کامیابیوں کو بھی سراہا اور اسے قومی عزم کی علامت قرار دیا۔
وزیراعظم نے اس بات پر اطمینان کا اظہار کیا کہ پاکستان کے دانشمندانہ طرزِ عمل اور اصولی مؤقف کو آج عالمی برادری بھی تسلیم کر رہی ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان اپنی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے تحفظ کے لیے ہر لمحہ تیار ہے اور ملکی دفاع پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔
وزیراعظم شہباز شریف نے واضح کیا کہ وطنِ عزیز کے خلاف کسی بھی قسم کی مہم جوئی یا سازش کو برداشت نہیں کیا جائے گا اور ایسی کسی بھی کوشش کا بھرپور اور منہ توڑ جواب دیا جائے گا۔ انہوں نے زیرِ تربیت افسران پر زور دیا کہ وہ اپنے پیشہ ورانہ فرائض کی انجام دہی میں کوئی کسر نہ اٹھا رکھیں کیونکہ ملک کا روشن مستقبل انہیں جیسے باصلاحیت افسران کے ہاتھوں میں محفوظ ہے۔
قبل ازیں کوئٹہ میں نیشنل ایکشن پلان کی صوبائی ایپکس کمیٹی کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے وزیراعظم نےکہاکہ حکومت صوبہ بلوچستان کے نوجوانوں کو قومی دھارے میں مؤثر انداز میں شامل کرنے، انہیں بااختیار بنانے اور مثبت سرگرمیوں کی جانب راغب کرنے کے لئے متعدداقدامات کر رہی ہے۔نوجوانوں کے ساتھ تعمیری رابطے اور موثر شمولیت کے ذریعے انہیں قومی ترقی میں فعال کردار ادا کرنے کے مواقع فراہم کرنے کے لئے کوشاں ہیں۔ بلوچستان میں تعلیمی مواقع میں اضافہ، فنی و پیشہ ورانہ تربیت، روزگار کے مواقع کی فراہمی، اسپورٹس اور یوتھ پروگرامز کا فروغ، اسکالرشپس، ڈیجیٹل اسکلز ٹریننگ، اور نوجوانوں کی فیصلہ سازی کے عمل میں شمولیت جیسے اقدامات کئے جا رہےہیں۔
وزیراعظم نے کہاکہ بلوچستان میں انفراسٹرکچر، تعلیم، صحت اور مواصلات کے شعبوں میں ترقیاتی منصوبوں پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے تاکہ نوجوانوں کو بہتر سہولیات اور ترقی کے مساوی مواقع فراہم کیے جا سکیں۔
وزیراعظم نے بلوچستان اور باقی ملک میں انسداد دہشتگری کے لئے اقدامات کے لئے چیف آف ڈیفنس فورسز سید عاصم منیر اور پاک افواج کو خراج تحسین پیش کیا۔انہوں نے کہا کہ دہشتگردی کی عفریت کے مکمل خاتمے کے لیے پولیس اور دیگر فورسز کی بہترین تربیت اور نئی ٹیکنالوجی انتہائی اہم ہے۔
محمدشہباز شریف نے بلوچستان کی رخشان ڈویژن میں فرنٹیئر کور تعینات کرنے کی ہدایت کی اورکہاکہ اس امر سے بلوچستان میں معدنیات کے تحفظ کے لئے ایک راہداری قائم ہو گی۔
وزیراعظم نے بلوچستان میں عوامی فلاح و بہبود کے لئے متعدد اقدامات پر وزیر اعلیٰ میر سرفراز بگٹی اور ان کی ٹیم کی پزیرائی کی۔انہوں نےکہاکہ پاکستان قدرتی وسائل بالخصوص معدنیات سے مالامال ملک ہے۔بلوچستان میں محفوظ ماحول فراہم کرنا معدنیات سے منسلک منصوبوں پر کام کرنے والی مقامی اور بین الاقوامی کمپنیوں کا ملک میں اعتماد برقرار رکھنے کے لیے نا گزیر ہے۔
وزیراعظم نے بلوچستان حکومت کی جانب سے ضلعی انتظامیہ میں تعیناتیوں کے لئے شفافیت اور میرٹ برقرار رکھنے کی کاوشوں کی پزیرائی کی۔
اجلاس میں وزیراعظم کو بلوچستان میں سیکیورٹی صورتحال، انسداد دہشتگری کے لیے اقدامات کی پیشرفت، گورننس کے نظام میں بہتری کے لیے اقدامات، ڈیجیٹائزیشن، کیش لیس اکانومی کے لیے اقدامات اور دیگر امور پر بریفنگ دی گئی۔
بلوچستان میں نوجوانوں کی فلاح و بہبود کے لئے یوتھ سکلز پروگرام اور دیگر منصوبوں پر کام جاری ہے۔نومبر 2024 سے اب تک ایک بھی پولیو کیس رپورٹ نہیں ہوا۔کینسر انسٹیٹیوٹ ، ڈائلیسس سینٹر، ٹراما سینٹر اور اس جیسے شعبہ صحت کے متعدد منصوبے فعال ہو چکے ہیں اور مزید کی تعمیر پر کام جاری ہے۔
صوبے میں اس وقت ننانوے فیصد سکول کھلے ہیں اور تعلیمی سر گرمیاں جاری ہیں۔شمسی توانائی کے منصوبے سے بلوچستان میں 15000 سے زائد گھروں کو فائدہ پہنچا ہے۔


