ڈاکٹردائودکی رپورٹ
حکومت نے سرکاری طور پر 16 اگست 2026 کو ایم ڈی کیٹ (MDCAT) امتحان کی تاریخ کا اعلان کر دیا ہے، جس کے بعد پورے پاکستان میں میڈیکل کے امیدواروں میں تیاری کی ایک نئی لہر دوڑ گئی ہے۔ گزشتہ سال کے مقابلے میں اس بار بہت سے طلبہ محسوس کر رہے ہیں کہ امتحان نسبتاً پہلے رکھا گیا ہے، جس کے باعث تیاری کے لیے دستیاب وقت کم ہو گیا ہے اور تعلیمی دباؤ میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔
اس اعلان نے کئی ماہ سے جاری غیر یقینی صورتحال کا خاتمہ تو کر دیا ہے، لیکن ساتھ ہی میڈیکل اور ڈینٹل کالجوں میں داخلے کے خواہش مند طلبہ کے درمیان مقابلے کو مزید سخت بنا دیا ہے۔ طلبہ اب تیزی سے نصاب کی دہرائی، ٹیسٹ سیشنز میں شرکت اور اپنے مطالعاتی منصوبوں کو دوبارہ ترتیب دینے میں مصروف ہیں تاکہ محدود وقت میں بہتر تیاری مکمل کی جا سکے۔طلبہ کا کہنا ہے کہ گزشتہ سال کے مقابلے میں اس مرتبہ انٹرمیڈیٹ امتحانات اور ایم ڈی کیٹ کے درمیان وقفہ کم ہے۔ پچھلے سال طلبہ کو بورڈ امتحانات کے بعد خصوصی طور پر ایم ڈی کیٹ کی تیاری کے لیے نسبتاً زیادہ وقت ملا تھا، جبکہ اس سال نئے امیدواروں کے لیے یہ صورتحال زیادہ تشویش کا باعث بن رہی ہے کیونکہ وہ اپنی تصوراتی تیاری مضبوط کرنے کے لیے پوسٹ بورڈ ریویژن اور پریکٹس ٹیسٹ پر زیادہ انحصار کرتے ہیں۔ایک اور نمایاں فرق آن لائن تیاری کے وسائل اور ڈیجیٹل ماک ٹیسٹس کے بڑھتے ہوئے استعمال کی صورت میں سامنے آیا ہے۔ مختلف اکیڈمیوں نے اپنے آن لائن نظام کو مزید بہتر بنایا ہے تاکہ چھوٹے شہروں کے طلبہ بھی لیکچرز اور پریکٹس مواد تک آسانی سے رسائی حاصل کر سکیں۔ تاہم دیہی علاقوں کے طلبہ اب بھی غیر مساوی تعلیمی سہولیات اور معیاری رہنمائی کی کمی کی شکایت کرتے ہیں۔بہت سے طلبہ کو خدشہ ہے کہ اس سال میرٹ مزید بلند جا سکتی ہے کیونکہ امیدواروں کی تعداد مسلسل بڑھ رہی ہے جبکہ سرکاری میڈیکل کالجوں میں نشستیں محدود ہیں۔ اس کے علاوہ متعدد ریپیٹر طلبہ بھی بہتر اسکور کے لیے دوبارہ امتحان میں شریک ہو رہے ہیں، جس سے مقابلہ مزید سخت ہونے کا امکان ہے۔ایم ڈی کیٹ سے وابستہ ذہنی دباؤ بھی گزشتہ سال کے مقابلے میں زیادہ محسوس کیا جا رہا ہے۔ طلبہ اکثر سوشل میڈیا اسٹڈی گروپس میں اضطراب، طویل مطالعے کے اوقات اور ناکامی کے خوف پر گفتگو کرتے نظر آتے ہیں۔ تعلیمی ماہرین امیدواروں کو مشورہ دے رہے ہیں کہ وہ گھبراہٹ سے بچیں اور تصوراتی مطالعے، وقت کے مؤثر استعمال اور باقاعدہ ماک ٹیسٹ پریکٹس پر توجہ دیں۔
انتظامی سطح پر بھی طلبہ گزشتہ برسوں میں سامنے آنے والے تنازعات کے بعد زیادہ شفاف اور محفوظ امتحانی نظام کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ امیدواروں کا کہنا ہے کہ 16 اگست کو ہونے والے امتحان کو مکمل طور پر میرٹ، شفافیت اور سخت سکیورٹی کے اصولوں کے تحت منعقد کیا جانا چاہیے تاکہ کسی بھی قسم کے تنازع یا لیک ہونے کے خدشات سے بچا جا سکے۔
الٹی گنتی اب باضابطہ طور پر شروع ہو چکی ہے اور پاکستان کے ہزاروں طبی امیدوار تیاری کے آخری اور اہم ترین مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں۔ ایم ڈی کیٹ 2026 نہ صرف ایک امتحان بلکہ ہزاروں طلبہ کے پیشہ ورانہ مستقبل کا فیصلہ کرنے والا اہم سنگِ میل بن چکا ہے۔

