اسلام آباد:مقامی عدالت نے نیشنل سائبر کرائم انویسٹی یشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کی جسمانی ریمانڈ کی استدعا مسترد کرتے ہوئے صحافی فخر الرحمٰن کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیجنے کا حکم دے دیا۔
سماعت کے دوران وکیل صفائی احد کھوکھر نے مؤقف اختیار کیا کہ فخر الرحمٰن نے کسی جھوٹی معلومات کو خود تخلیق نہیں کیا بلکہ ایک مذہبی شخصیت کے بیان کو بطور حوالہ ٹویٹ کیا۔ ان کے مطابق اسی ویڈیو کو ہزاروں دیگر اکاؤنٹس نے بھی شیئر کیا جبکہ اصل بیان دینے والے کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔
وکیل صفائی نے عدالت کو بتایا کہ فخر الرحمٰن نے این سی سی آئی اے کے نوٹس کا جواب دیا اور تفتیش میں مکمل تعاون کر رہے ہیں، اس لیے انہیں کیس سے ڈسچارج کیا جائے۔
دوسری جانب این سی سی آئی اے نے عدالت کو بتایا کہ ملزم نے ٹویٹ کو اپنا تسلیم کیا ہے تاہم موبائل فون کا پاس ورڈ فراہم نہیں کیا، جس کے باعث مزید تفتیش ضروری ہے اور جسمانی ریمانڈ دیا جائے۔
فریقین کے دلائل سننے کے بعد عدالت نے جسمانی ریمانڈ کی درخواست مسترد کرتے ہوئے ملزم کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیجنے کا حکم دے دیا۔
اس سے قبل این سی سی آئی اے نے سوشل میڈیا پر مبینہ طور پر ’جھوٹی اور گمراہ کن معلومات‘ پھیلانے کے الزام میں صحافی فخر الرحمن سمیت متعدد افراد کے خلاف مقدمہ درج کیا تھا۔
نامزد افراد میں شامل فخر الرحمن، جو آج نیوز سمیت کئی اداروں میں کام کر چکے ہیں، کو پہلے ہی گرفتار کیا جا چکا تھا۔

