اسلام آباد: مشرقِ وسطٰی میں چھ ہفتوں سے جاری تباہ کن جنگ کو روکنے کے لیے پاکستان نے ایک بار پھر عالمی ثالث کے طور پر کمر کس لی ہے۔ اسلام آباد نے امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کے دوسرے اور فیصلہ کن دور کی میزبانی کی باقاعدہ پیشکش کر دی ہے، جس کا مقصد جنگ بندی کی مدت ختم ہونے سے قبل ایک پائیدار معاہدے تک پہنچنا ہے۔
عالمی خبر رساں اداروں کی رپورٹس کے مطابق، اسلام آباد میں ہونے والے پہلے دورِ مذاکرات میں اگرچہ کوئی حتمی اعلان نہیں ہو سکا تھا، لیکن اس نے ‘بریک تھرو’ کی بنیاد رکھ دی تھی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اس عمل میں پاکستان کے ساتھ ترکیہ اور مصر بھی سرگرم ہیں، اور اب فریقین کے درمیان پیغامات کا تبادلہ ایک ایسے مرحلے پر ہے جہاں کسی منطقی نتیجے کی امید روشن ہو گئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق، گزشتہ دور میں امریکی وفد کی اچانک روانگی کے باوجود دونوں ممالک اس بات پر متفق ہیں کہ وہ دوبارہ مکمل جنگ کی طرف نہیں جانا چاہتے۔ ایک امریکی عہدیدار نے صدر ٹرمپ کے اس بیان کی تصدیق کی ہے کہ:
"ایران نے رابطہ کیا ہے اور وہ ڈیل کرنے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔”
ماہرین کا کہنا ہے کہ دونوں جانب سے اس ‘خونی باب’ کو ہمیشہ کے لیے بند کرنے کی سنجیدہ خواہش موجود ہے اور معاملات اب مثبت سمت میں آگے بڑھ رہے ہیں۔
معروف کالم نگار اور سینئیر صحافی نصرت جاوید نے اپنے ٹاک شو میں اگلے مرحلے کا لائحہ عمل میں جمعرات کا دن اہم قراردیا ہے اور ممکنہ مذاکرات جمعرات کے روز ہوسکتے ہیں تاہم وینیو کا تعین نہیں ہوسکا۔
اسلام آباد میزبانی کے لیے سرفہرست ہے، تاہم جنیوا کو بھی متبادل کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ اس بار فریقین کے آمنے سامنے بیٹھ کر بات کرنے کے قوی امکانات ہیں تاکہ چھ ہفتوں سے جاری تنازع کا مستقل حل نکالا جا سکے۔
پاکستان اس وقت تہران اور واشنگٹن کے درمیان ایک مضبوط ‘سفارتی پل’ کا کردار ادا کر رہا ہے۔ عالمی برادری اب بے چینی سے اسلام آباد کی طرف دیکھ رہی ہے کہ کیا پاکستان کی یہ کوششیں خطے کو ایک بڑی تباہی سے بچانے میں کامیاب ہو پائیں گی یا نہیں۔ اگر یہ مذاکرات کامیاب ہوتے ہیں، تو یہ پاکستان کی خارجہ پالیسی کے لیے ایک بڑی تاریخی فتح ثابت ہو گی۔

