نیویارک/بوسٹن : امریکہ کا شمال مشرقی حصہ اس وقت تاریخ کے شدید ترین برفانی طوفان کی لپیٹ میں ہے، جس نے معمولاتِ زندگی کو مکمل طور پر مفلوج کر کے رکھ دیا ہے۔ طوفان کی شدت کے باعث نیویارک، میساچوسٹس اور رہوڈ آئی لینڈ سمیت سات ریاستوں میں ہنگامی حالت (اسٹیٹ آف ایمرجنسی) نافذ کر دی گئی ہے۔
محکمہ موسمیات کے مطابق برفباری کی شدت نے ماہرین کو بھی حیران کر دیا ہے:
نیویارک سٹی: سینٹرل پارک میں 48 سینٹی میٹر (تقریباً 19 انچ) سے زیادہ برف ریکارڈ کی گئی ہے۔ میئر ظہران ممدانی نے شہریوں کو گھروں میں رہنے کی سخت تاکید کی ہے تاکہ امدادی عملہ سڑکیں صاف کر سکے۔
رہوڈ آئی لینڈ: یہاں 32 انچ سے زیادہ برف پڑی ہے، جسے ایک نیا تاریخی ریکارڈ قرار دیا جا رہا ہے۔
بوسٹن اور فلاڈیلفیا: ان علاقوں میں بھی 14 انچ تک برف کی تہیں جم چکی ہیں۔
ہوائی اور زمینی سفر معطل
فلائٹ اویئر (FlightAware) کے مطابق، پیر کے روز تک 7,400 سے زائد پروازیں منسوخ کی جا چکی ہیں، جبکہ ہزاروں پروازیں تاخیر کا شکار ہیں۔ جان ایف کینیڈی (JFK) اور لوگن ایئرپورٹ سمیت تمام بڑے ہوائی اڈے آپریشنز معطل کرنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔ ٹرین سروسز بھی مکمل طور پر بند ہیں اور سڑکوں پر کئی فٹ برف جمع ہونے کی وجہ سے گاڑیوں کی آمد و رفت ناممکن ہو گئی ہے۔
بجلی کا بریک ڈاؤن اور عوامی مشکلات
شدید ہواؤں (40 سے 60 میل فی گھنٹہ) اور برف کے بوجھ کی وجہ سے بجلی کا نظام درہم برہم ہو گیا ہے۔ ‘پاور آؤٹ ایج یو ایس’ کے مطابق6 لاکھ سے زائد گھر بجلی سے محروم ہو چکے ہیں۔
میساچوسٹس میں بجلی کے بغیر رہنے والے خاندانوں کی تعداد لاکھوں میں بتائی جا رہی ہے۔
شدید سردی میں بجلی کی عدم موجودگی نے رہائشیوں کے لیے مشکلات میں اضافہ کر دیا ہے۔
لانگ آئی لینڈ کی رہائشی سینڈرا وو نے بتایا کہ طوفان کی شدت اتنی زیادہ ہے کہ ان کے گھر کا مرکزی دروازہ برف میں دب جانے کی وجہ سے نہیں کھل رہا۔ انہوں نے کہا، "میں نے 20 برسوں میں ایسا منظر نہیں دیکھا، یہ 1990 کے بفلو طوفان کی یاد تازہ کر رہا ہے۔”
ماہرینِ موسمیات کا کہنا ہے کہ اس قدر بڑے پیمانے پر جمع ہونے والی برف کو ہٹانے اور معمولاتِ زندگی بحال کرنے میں ایک ہفتے سے زیادہ کا وقت لگ سکتا ہے۔
امریکا میں صدی کا بدترین برفانی طوفان: 7 ریاستوں میں ایمرجنسی ، نظامِ زندگی مفلوج، لاکھوں گھر بجلی سے محروم

