فلوریڈا (نیوز ڈیسک) امریکی ریاست فلوریڈا کے شہر پام بیچ میں واقع سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی رہائش گاہ ‘مار-اے-لاگو’ ایک بار پھر میدانِ جنگ بن گئی۔ اتوار کی علی الصبح ایک مسلح نوجوان نے سیکیورٹی کا فولادی حصار توڑ کر ریزورٹ کے اندر داخل ہونے کی کوشش کی، جسے سیکرٹ سروس کے ایجنٹوں نے فائرنگ کر کے موقع پر ہی ڈھیر کر دیا۔
سیکرٹ سروس کے مطابق یہ سنسنی خیز واقعہ رات ڈیڑھ بجے پیش آیا۔ شمالی ریاست نارتھ کیرولائنا سے تعلق رکھنے والا 20 سالہ نوجوان، جو گزشتہ چند دنوں سے لاپتہ تھا، بارود اور نفرت کا سامان لے کر ٹرمپ کی دہلیز تک پہنچ گیا۔
ملزم نے اس وقت اپنی گاڑی اندر گھسائی جب ایک اور گاڑی گیٹ سے باہر نکل رہی تھی۔
اس کے پاس ایک شاٹ گن اور ایندھن کا کین (فیول کین) موجود تھا، جس سے بڑے دھماکے یا آتشزدگی کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
جیسے ہی اس نے سیکیورٹی حد عبور کی، سیکرٹ سروس کے اہلکاروں اور پام بیچ کاؤنٹی کے ڈپٹی شیرف نے گولیوں کی بوچھاڑ کر دی، جس کے نتیجے میں وہ مارا گیا۔
خوش قسمتی یا معجزہ؟
خوش قسمتی سے واقعے کے وقت ڈونلڈ ٹرمپ اور خاتون اول میلانیا ٹرمپ مار-اے-لاگو میں موجود نہیں تھے، بلکہ وہ وائٹ ہاؤس میں مقیم تھے۔ اگر وہ وہاں موجود ہوتے تو صورتحال مزید خوفناک ہو سکتی تھی۔
یہ واقعہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکہ شدید سیاسی بے چینی اور تشدد کی لپیٹ میں ہے۔ گزشتہ چند سالوں میں کئی اہم شخصیات کو نشانہ بنایا گیا ہے، جن میں شامل ہیں:
چارلی کرک کا قتل۔
اسٹیٹ ہاؤس کی ڈیموکریٹک لیڈر اور ان کے شوہر کا بہیمانہ قتل۔
پنسلوانیا کے گورنر جوش شاپیرو کی رہائش گاہ پر آتش زنی کا حملہ۔
ٹرمپ پر ہونے والے سابقہ حملے
یہ پہلا موقع نہیں جب ٹرمپ کی جان لینے کی کوشش کی گئی ہو۔ جولائی 2024 میں پنسلوانیا کی ریلی میں ان پر قاتلانہ حملہ ہوا جس میں وہ بال بال بچے، جبکہ ستمبر 2024 میں ان کے گولف کورس پر بھی ایک مسلح شخص (ریان روتھ) پکڑا گیا تھا جسے حال ہی میں عمر قید کی سزا سنائی گئی ہے۔
تحقیقاتی ادارے اب اس نوجوان کا نفسیاتی پروفائل تیار کر رہے ہیں تاکہ معلوم ہو سکے کہ اس کے پیچھے کون سے محرکات کارفرما تھے۔
مار-اے-لاگو میں خونی ڈرامہ: ٹرمپ کے گھر پر حملہ، سیکرٹ سروس نے گولیوں کی بوچھاڑ کردی

