ریاض/جدہ : اسرائیل میں تعینات امریکی سفیر مائیک ہکابی کے ایک انتہائی متنازع اور اشتعال انگیز بیان نے مشرقِ وسطیٰ کے سیاسی افق پر نیا طوفان کھڑا کر دیا ہے۔ اسلامی تعاون تنظیم (OIC) نے اس بیان کو یکسر مسترد کرتے ہوئے اسے "ناقابلِ قبول” قرار دیا ہے، جبکہ سعودی عرب نے براہِ راست امریکی حکومت سے اس معاملے پر جواب طلب کر لیا ہے۔
اسرائیل میں امریکی سفیر مائیک ہکابی نے حال ہی میں ایک بیان دیا تھا جس میں انہوں نے کہا کہ:
"پورے مشرقِ وسطیٰ پر اسرائیل کا کنٹرول ایک قابلِ قبول صورتحال ہو سکتی ہے۔”
اس بیان کو خطے کی خود مختاری اور بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا جا رہا ہے، جس نے عرب ممالک اور عالمی طاقتوں کے درمیان تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔
خادم الحرمین الشریفین کی حکومت نے اس معاملے پر فوری ایکشن لیتے ہوئے امریکی محکمہ خارجہ سے باضابطہ وضاحت مانگی ہے۔ سعودی حکام کا کہنا ہے کہ اس طرح کے بیانات خطے میں امن کی کوششوں کو سبوتاژ کرنے کے مترادف ہیں اور یہ امریکہ کے اپنے دیرینہ موقف کے بھی منافی ہیں۔
او آئی سی (OIC)نے بھی ردعمل دیا ہےاسلامی تعاون تنظیم کے ترجمان نے جدہ سے جاری ایک بیان میں کہا کہ:
امریکی سفیر کا بیان اسلامی ممالک کی آزادی اور خود مختاری پر براہِ راست حملہ ہے۔
مشرقِ وسطیٰ پر کسی ایک ملک کا غلبہ یا تسلط بین الاقوامی چارٹر اور اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کی سنگین خلاف ورزی ہے۔
او آئی سی نے عالمی برادری اور سلامتی کونسل سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس اشتعال انگیزی کا نوٹس لیں تاکہ خطے کو مزید عدم استحکام سے بچایا جا سکے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق، مائیک ہکابی کے اس بیان سے واشنگٹن اور اس کے عرب اتحادیوں کے درمیان تعلقات سرد مہری کا شکار ہو سکتے ہیں۔ یہ بیان ایک ایسے وقت میں آیا ہے جب خطہ پہلے ہی شدید تناؤ کی زد میں ہے، اور اس طرح کی بیان بازی سے انتہا پسندی میں اضافے کا خدشہ ہے۔
امریکی سفیر مائیک ہکابی کے بیان نے آگ لگا دی: عالمی برادری اور عالمِ اسلام میں شدید غم و غصے کی لہر، سفارتی تعلقات میں تناؤ کا خدشہ

