اسلام آباد: پاکستان کی معاشی حالت کے حوالے سے جاری کردہ تازہ ترین سرکاری سروے نے ملکی معیشت کی تباہ حالی کا پردہ چاک کر دیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق، ملک میں غربت کی شرح بڑھ کر 29 فیصد تک پہنچ گئی ہے، جو گزشتہ 11 برسوں کی بلند ترین سطح ہے۔ اس وقت تقریباً ساڑھے 7 کروڑ پاکستانی انتہائی کسمپرسی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں، جن کی ماہانہ آمدنی محض 8,484 روپے تک محدود ہو کر رہ گئی ہے۔
شہری و دیہی علاقوں میں غربت کا گراف
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق، غربت نے دیہی اور شہری دونوں علاقوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے:
دیہی علاقے: غربت کی شرح 28.2 فیصد سے چھلانگ لگا کر 36.2 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔
شہری علاقے: شہروں میں بھی غربت 11 فیصد سے بڑھ کر 17.4 فیصد ہو گئی ہے۔
صوبائی صورتحال: بلوچستان سب سے زیادہ متاثر
صوبائی سطح پر غربت کے سائے مزید گہرے ہو چکے ہیں:
بلوچستان: یہاں غربت کی شرح 47 فیصد تک پہنچ چکی ہے، جو ملک میں سب سے زیادہ ہے۔
سندھ: شرحِ غربت 24.5 سے بڑھ کر 32.6 فیصد ہو گئی۔
خیبر پختونخوا: یہاں غربت 28.7 سے بڑھ کر 35.3 فیصد ریکارڈ کی گئی۔
پنجاب: گزشتہ 7 برسوں میں غربت میں 41 فیصد اضافہ ہوا، جس کے بعد یہ شرح 23.3 فیصد ہو چکی ہے۔
آمدن میں کمی اور عدم مساوات
رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ پاکستانیوں کی حقیقی ماہانہ آمدن میں 12 فیصد کمی واقع ہوئی ہے۔ 2019 میں جو اوسط آمدن 35,454 روپے تھی، وہ اب گر کر 31,127 روپے رہ گئی ہے۔ دولت کی عدم مساوات بھی 32.7 فیصد تک پہنچ گئی ہے، جو 1998 کے بعد سب سے بلند ترین سطح ہے۔
لیبر مارکیٹ اور بیروزگاری کا بحران
پاکستان کو اس وقت 21 سال میں بیروزگاری کی بلند ترین شرح (7.1%) کا سامنا ہے۔ بڑے پیمانے کی صنعتیں (LSM) کورونا سے پہلے کی سطح پر رکی ہوئی ہیں، جس کی وجہ سے روزگار کے نئے مواقع پیدا نہیں ہو رہے۔ وفاقی وزیر احسن اقبال کا کہنا ہے کہ 24 کروڑ کی آبادی اتنی برآمدات (Exports) نہیں کر پا رہی جتنی 90 لاکھ سمندر پار پاکستانی زرمبادلہ بھیج رہے ہیں۔
حکومتی سروے نے معاشی بہتری کے دعووں کی قلعی کھول دی: دولت کی عدم مساوات 27 سالہ ریکارڈ توڑ گئی

