لندن،پاکستان کی جانب سے افغانستان میں کی گئی فضائی کارروائی سے متعلق منظرنامہ مزید واضح ہو گیا ہے، جہاں ایک طرف جانی نقصان کی اطلاعات ہیں تو دوسری جانب سرکاری مؤقف بھی سامنے آ گیا ہے، جس نے اس کارروائی کو باقاعدہ “دہشتگردی کے خلاف جوابی آپریشن” قرار دیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق بی بی سی اردو کی رپورٹ میں ننگرہار میں شہری ہلاکتوں اور تدفین کا ذکر کیا گیا، وہیں اب جیو نیوز اردو کے مطابق پاکستان نے افغانستان میں شدت پسندوں کے خلاف بڑے پیمانے پر کارروائی کرتے ہوئے 7 اہم ٹھکانوں کو کامیابی سے نشانہ بنایا۔
وزارت اطلاعات و نشریات کے جاری کردہ بیان کے مطابق یہ کارروائی حالیہ خودکش حملوں کے ردعمل میں کی گئی، جن میں اسلام آباد کی امام بارگاہ، باجوڑ اور بنوں کو نشانہ بنایا گیا تھا۔ حکام کا کہنا ہے کہ ان حملوں میں افغانستان میں موجود شدت پسند قیادت اور سہولت کار ملوث تھے۔
بیان میں کہا گیا کہ ان کارروائیوں کی ذمہ داری کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان، فتنہ الخوارج اور اس کے اتحادیوں نے قبول کی، جبکہ پاکستان کے پاس اس بات کے “ٹھوس شواہد” موجود ہیں کہ یہ حملے افغانستان میں موجود عناصر کی ہدایات پر کیے گئے۔ وزارت کے مطابق پاکستان نے متعدد بار افغان عبوری حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی سرزمین دہشتگردی کے لیے استعمال ہونے سے روکے، مگر مؤثر اقدامات نہ ہونے پر پاکستان نے انٹیلی جنس بنیادوں پر ٹارگٹڈ کارروائی کی۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ:
7 دہشتگرد کیمپس اور ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا
کارروائی مکمل طور پر انٹیلی جنس معلومات پر مبنی تھی پاکستانی شہریوں کا تحفظ اولین ترجیح ہے دوسری جانب افغان حکام اور سابق صدر حامد کرزئی نے ان حملوں کی مذمت کرتے ہوئے اسے خودمختاری کی خلاف ورزی قرار دیا اور پاکستان سے پالیسی پر نظرِ ثانی کا مطالبہ کیا۔
یہ متضاد بیانیہ اس واقعے کو مزید پیچیدہ بنا رہا ہے۔ایک طرف پاکستان اسے دہشتگردی کے خلاف دفاعی اقدام قرار دے رہا ہے، جبکہ دوسری جانب افغانستان اسے شہری آبادی پر حملہ قرار دے رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق اس صورتحال سے نہ صرف پاک افغان تعلقات میں کشیدگی بڑھے گی بلکہ خطے کی سیکیورٹی بھی ایک نئے بحران کی طرف جا سکتی ہے۔ ردعمل سامنے نہیں آیا،
افغانستان میں فضائی حملہ،18 ہلاکتوں کا دعویٰ،دہشت گردی میں ملوث ٹھکانوں پر حملے کئے،پاکستان

