واشنگٹن/لندن : رسوائے زمانہ امریکی سرمایہ کار جیفری ایپسٹین کے کیس سے متعلق امریکی محکمہ انصاف نے 30 لاکھ سے زائد خفیہ دستاویزات جاری کر دی ہیں، جن میں برطانوی شاہی خاندان کے سابق رکن اینڈریو ماؤنٹ بیٹن ونڈسر (سابق ڈیوک آف یارک) کی ایسی تصاویر اور ای میلز سامنے آئی ہیں جنہوں نے ان کے تمام سابقہ دفاعی دعوؤں کو مسترد کر دیا ہے۔
شرمناک تصاویر اور نازیبا حرکات
جاری کردہ فائلز میں شہزادہ اینڈریو کی ایسی تصاویر شامل ہیں جن میں وہ ایک خاتون کے اوپر نازیبا حالت میں جھکے ہوئے دکھائی دیتے ہیں، جبکہ خاتون زمین پر سیدھی لیٹی ہوئی ہے۔ ایک دوسری تصویر میں ان کا ہاتھ خاتون کے جسم کے اوپری حصے پر دیکھا جا سکتا ہے۔ ان تصاویر نے برطانوی شاہی خاندان کے وقار کو ایک بار پھر شدید دھچکا پہنچایا ہے۔

دستاویزات سے انکشاف ہوا ہے کہ اگست 2010 میں، جب ایپسٹین پہلے ہی جنسی جرائم میں سزا یافتہ تھا، اس نے اینڈریو کو ایک 26 سالہ "خوبصورت اور ذہین” روسی خاتون ’ارینا‘ سے ملوانے کی پیشکش کی۔ ای میلز کے مطابق اینڈریو نے نہ صرف اس پیشکش کو قبول کیا بلکہ اس خاتون کے بارے میں مزید معلومات بھی طلب کیں اور پوچھا کہ "کیا تم نے اسے میرے بارے میں بتایا ہے؟”
شہزادہ اینڈریو طویل عرصے سے یہ دعویٰ کرتے آئے ہیں کہ انہوں نے 2006 میں ایپسٹین کے خلاف تحقیقات شروع ہوتے ہی اس سے تعلقات ختم کر دیے تھے، لیکن تازہ ترین ای میلز اس کے برعکس ثابت کرتی ہیں:
خفیہ ملاقاتیں: ستمبر 2010 میں اینڈریو نے بکنگھم پیلس میں ایپسٹین اور تین خواتین کے لیے ایک خفیہ ڈنر کا اہتمام کیا، جہاں "مکمل پرائیویسی” کی یقین دہانی کرائی گئی تھی۔

عالمی شخصیات کی زد میں
ان فائلوں نے صرف اینڈریو ہی نہیں بلکہ کئی دیگر عالمی اثر و رسوخ رکھنے والی شخصیات کو بھی کٹہرے میں کھڑا کر دیا ہے:
بل گیٹس: ایپسٹین نے دعویٰ کیا کہ مائیکروسافٹ کے بانی روسی خواتین کے ساتھ تعلقات کے بعد ایک جنسی بیماری کا شکار ہوئے تھے۔
ایلون مسک: ٹیسلا کے سربراہ نے 2013 میں ایپسٹین کے ساتھ ظہرانے کا پروگرام بنایا تھا۔
رچرڈ برانسن: ورجن گروپ کے بانی کے جزیرے پر ایپسٹین کی دو روسی لڑکیوں کے ساتھ آمد کے حوالے سے سوالات اٹھ رہے ہیں۔
لارڈ مینڈلسن: ان کے شوہر کو ایپسٹین کی جانب سے مبینہ طور پر 10 ہزار پاؤنڈ کی ادائیگی کا انکشاف ہوا ہے۔
شاہی تنزلی کا سفر
شہزادہ اینڈریو کے ایپسٹین کے ساتھ تعلقات پہلے ہی ان کی شاہی زندگی کی تباہی کا سبب بن چکے ہیں۔ گزشتہ برس اکتوبر میں شاہ چارلس نے ان سے ‘پرنس’ کا ٹائٹل اور ‘ہز رائل ہائینس’ (HRH) کا خطاب واپس لے لیا تھا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ان تازہ ترین انکشافات کے بعد اینڈریو کے لیے کسی بھی قسم کی عوامی واپسی ناممکن ہو چکی ہے اور وہ قانونی و سماجی طور پر مزید الگ تھلگ ہو جائیں گے۔
یادرہے امریکی محکمہ انصاف نے جمعے جیفری ایپسٹین کی فائلوں سے تصاویر اور ویڈیوز کے ساتھ لاکھوں نئے صفحات جاری کرنا شروع کر دیے تھے اور اس کیس نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو مشکل میں ڈال رکھا ہے۔
ڈپٹی اٹارنی جنرل ٹوڈ بلانچ نے کہا کہ وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ کے سابق دوست، اور سزا یافتہ جنسی مجرم سے متعلق وسیع فائلوں کے جائزے میں کوئی کردار ادا نہیں کیا۔
بلانچ نے ایک پریس کانفرنس میں کہا:
"انہوں نے محکمے کو یہ نہیں بتایا کہ ہمارا جائزہ کیسے لیا جائے، کیا تلاش کرنا ہے، کیا ترمیم کرنا ہے، کیا رد نہیں کرنا،”۔
محکمہ انصاف نے کہا کہ جاری کی جانے والی کچھ دستاویزات میں 79 سالہ صدر ٹرمپ کے بارے میں "جھوٹے اور سنسنی خیز دعوے” ہیں جو 2020 کے صدارتی انتخابات سے قبل ایف بی آئی کو جمع کروائے گئے تھے۔
بلانچ جو پہلے ٹرمپ کے ذاتی وکیل کے طور پر خدمات انجام دے چکے ہیں، نے ان باتوں کو مسترد کر دیا کہ صدر کے بارے میں شرمناک مواد کو جمعے کو جاری ہونے والی 30 لاکھ سے زیادہ دستاویزات، 180,000 تصاویر اور 2,000 ویڈیوز میں سے نکال لیا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ ہم نے صدر ٹرمپ کو نہیں بچایا۔ "ہم نے کسی کو نہیں بچایا اور نہ ہی کسی کا دفاع کیا۔ (بشکریہ گارڈین)

