تحریر:سہیل احمدرانا
جہاں لفظ بے نقاب ہوں۔۔۔ وہیں سے سچ کا آغاز ہوتا ہے
کاغذوں میں سب کچھ درست تھا، فائلوں میں سب اچھا لکھ دیا گیا تھا، مگر شہر کی گلیوں میں موت منہ کھولے بیٹھی تھی۔ انتظامیہ نے پرندہ مارکیٹ کے تاجروں کی دکانیں راتوں رات مسمار کر کے حکومت کو کامیابی کی رپورٹ تو بھجوا دی، مگر اسی لاہور میں، اسی نظام کے سائے تلے، گزشتہ روز چند ہی گھنٹوں بعد ایک ایسا سانحہ پیش آیا جس نے ان تمام دعوؤں کو لہو میں نہلا دیا۔ گزشتہ روز بھاٹی گیٹ کے علاقے میں ایک ماں، اپنی دس ماہ کی معصوم بچی کو سینے سے لگائے، کھلی سیوریج لائن میں جا گری۔ وہ ماں جو شاید اگلے لمحے اپنی بچی کو دودھ پلانے والی تھی، جو شاید یہ سوچ رہی تھی کہ آج شام بچی کو گود میں لے کر سلا دے گی وہ ماں زندگی کی جنگ ہار گئی۔ اور وہ معصوم بچی، جس نے ابھی دنیا کے رنگ نہیں دیکھے تھے، جو لفظ “ماں” بولنے سے پہلے ہی اندھیروں میں گم ہو گئی، آج بھی لاپتا ہے۔
یہ حادثہ جتنا دل خراش ہے، اس کے بعد کا رویہ اس سے کہیں زیادہ سفاک ہے۔ واقعے کے فوراً بعد انتظامیہ نے ماں کے درد، باپ کے صدمے اور ایک معصوم کی گمشدگی کے بجائے اپنی انا کو ترجیح دی۔ پورے اعتماد سے کہا گیا کہ اس سیوریج لائن میں کسی انسان کا گر کر ڈوبنا ممکن ہی نہیں۔ دعویٰ کیا گیا کہ تلاشی مکمل ہو چکی ہے، جبکہ حقیقت یہ تھی کہ ایک گھر کی خوشیاں ناپاک پانی میں بہہ رہی تھیں۔ الٹا غم سے نڈھال شوہر کو ہی مشکوک بنا دیا گیا، ڈانٹ ڈپٹ کی گئی، جیسے اس کا دکھ، اس کا رونا بھی کوئی جرم ہو۔ لاہور کی انتظامیہ نے جس غیر انسانی اعتماد کے ساتھ یہ مؤقف اپنایا، اس نے میڈیا کو بھی کچھ لمحوں کے لیے خاموش کر دیا۔ سچ کو جھوٹ اور جھوٹ کو سچ مان لیا گیا۔ مگر سچ زیادہ دیر دفن نہیں رہتا۔ چند ہی گھنٹوں بعد حقیقت خود آؤٹ فال روڈ پر آ پڑی ماں کی لاش، خاموش، بے زبان، مگر پورے نظام پر ایک زوردار طمانچہ۔
ایک ماں کیوں مری؟ ایک دس ماہ کی بچی اس نظام کے لیے اتنی بے وقعت کیوں تھی؟ اگر لاہور جیسے بڑے شہر میں انسانی جان کی کوئی قیمت نہیں، تو دور دراز علاقوں میں عوام کس رحم و کرم پر زندہ ہیں؟ یہ بھی تلخ حقیقت ہے کہ جب ایسے سانحات کسی اور صوبے میں ہوتے ہیں تو انہیں بار بار اچھال کر اپنی کارکردگی چمکائی جاتی ہے، مگر جب موت اپنے صحن میں ناچے تو زبانیں گنگ، آنکھیں بند اور ضمیر مردہ ہو جاتا ہے۔
کہا جا رہا ہے کہ پروجیکٹ ڈائریکٹر سمیت چند اہلکاروں کے خلاف کارروائی عمل میں لائی گئی ہے، مگر کیا کسی نے یہ سوچا کہ پرندہ مارکیٹ میں زمین میں دب جانے والے پرندوں کی آہیں، بے روزگار ہونے والے تاجروں کی سسکیاں، اور بھاٹی گیٹ کی اس ماں کی آخری چیخ ایک ہی زنجیر کی کڑیاں ہیں؟ شاید وہ آوازیں آپ نے نہ سنیں ہوں، مگر یاد رکھیے اللہ تعالیٰ نے سب سن لیا ہے۔
جو چلے گئے، وہ لوٹ کر نہیں آئیں گے۔ حکمران اشرافیہ کے لیے یہ شاید ایک فائل، ایک انکوائری، ایک خبر ہو، مگر حقیقت یہ ہے کہ اس ماں اور اس معصوم بچی نے اپنی جان دے کر اس پورے “سسٹم” کو برہنہ کر دیا ہے ایک ایسا نظام جو تصویری رپورٹس میں تو کامیاب ہے، مگر حقیقی زندگی میں انسانوں کو کھلی نالیوں کے حوالے کر دیتا ہے۔


