Benaqab News | Welcome to Benaqab News Network
    Facebook Twitter Instagram
    Benaqab News | Welcome to Benaqab News NetworkBenaqab News | Welcome to Benaqab News Network
    • ہوم
    • اہم ترین
    • پاکستان
    • شہر شہر کی خبریں
    • دنیا کی خبریں
    • صحت
    • انٹرٹینمنٹ
    • کھیل
    • بزنس
    • ٹیکنالوجی

      مصنوعی ذہانت اور سائبر سکیورٹی: مائیکروسافٹ نے تاریخ کی سب سے بڑی سیکیورٹی اپ ڈیٹ جاری کر دی،

      بھارت کی ہٹ دھرمی : عالمی عدالت کے فیصلے کے باوجودمتنازع منصوبے ساولکوٹ ڈیم کے ٹینڈر جاری

      چیٹ جی پی ٹی کے نئے امیجز فیچر نے تہلکہ مچا دیا

      آئی فون 18 پرو، پہلے فولڈ ایبل آئی فون اور نئی واچز کی رونمائی کب کہاں ہوگی؟

      اے آئی کی دوڑ، میٹا نے مصنوعی ذہانت پر مبنی ایجنٹ متعارف کرادیا، پے منٹس سمیت ہر دفتری کام کرے گا

    • بلاگ
    • ویڈیوز

        بھٹ شاہ رورل ہیلتھ سینٹر کی  غفلت سے خاتون اور نومولود جاں بحق

      جشنِ آزادی کے سلسلے میں ضلع بھر میں مختلف تقریبات کا سلسلہ جاری

      ہیومین ویلفیئر آرگنائزیشن پاکستان کے زیر اہتمام ریلی نکالی گئی

      عالمگیر ویلفیئر ٹرسٹ اور جامع مدرسہ منصورہ ہالا کے مشترکہ تعاون سے مفت میڈیکل کیمپ کا انعقاد

      جشنِ آزادی کے سلسلے میں مغل ویلفیئر اتحاد ہالا کی جانب سے ریلی نکالی گئی

    Benaqab News | Welcome to Benaqab News Network

    ”جس کام میں برسوں لگے، آئی جی عثمان انور نے گھنٹوں میں کر دکھایا“

    Facebook Twitter LinkedIn WhatsApp
    Share
    Facebook Twitter Email WhatsApp

    تحریر:اسد مرزا
    جہاں لفظ بے نقاب ہوں۔۔۔ وہیں سے سچ کا آغاز ہوتا ہے

    یہ تحریر ہمارے نظامِ حکومت اور پولیس کلچر کی ایک واضح تصویر پیش کرتی ہے۔ ایسی تصویر جو کبھی مسکرا دیتی ہے، کبھی سوچنے پر مجبور کرتی ہے اور کبھی دل پر بوجھ بن جاتی ہے۔
    سیالکوٹ جیسے مہنگے اور حساس شہر میں ایک وقت ایسا بھی رہا جب وہاں کے تین اہم پولیس اسٹیشنز کی حالت ناگفتہ بہ تھی۔ مختلف ادوار میں ان کی تعمیرِ نو کے لیے فائلیں بنتی رہیں، خطوط لکھے گئے، نوٹس لگے، سفارشات ہوئیں، مگر عملی پیش رفت نہ ہو سکی۔ وقت گزرتا گیا، افسران بدلتے گئے، مگر فائلیں دفاتر میں ہی دبی رہیں۔ بعد ازاں جب سیالکوٹ میں نیا انتظامی سیٹ اپ آیا تو ان پولیس اسٹیشنز کا ازسرِنو جائزہ لیا گیا۔ سیالکوٹ انٹرنیشنل ایئرپورٹ پولیس اسٹیشن، نیکاپور اور اگوکی پولیس اسٹیشن کی عمارتیں اس حد تک خستہ ہو چکی تھیں کہ دفاتر، حوالات اور عملے کے لیے بنیادی سہولتیں بھی ناکافی تھیں۔ ان حالات میں روایتی فائل ورک کے بجائے معاملہ اعلیٰ سطح پر مؤثر انداز میں پیش کیا گیا۔ اصل فیصلہ کن موڑ اس وقت آیا جب یہ معاملہ براہِ راست اس وقت کے ڈی پی او حسن اقبال آئی جی پنجاب ڈاکٹر عثمان انور کے علم میں لائے ۔ زمینی حقائق سامنے رکھے گئے تو آئی جی صاحب نے محض رسمی ہدایات پر اکتفا نہیں کیا بلکہ عملی قدم اٹھایا۔ چند ہی گھنٹوں میں ڈپٹی کمشنر اور بورڈ آف ریونیو کے متعلقہ حکام متحرک ہوئے اور تینوں پولیس اسٹیشنز کے لیے ایک ایک کنال زمین فراہم کر دی گئی۔ برسوں سے رکی ہوئی فائل ایک واضح قیادت کے ایک فیصلے سے حرکت میں آ گئی۔ آج انہی مقامات پر جدید اور معیاری پولیس اسٹیشنز تعمیر ہو چکے ہیں، جن کا افتتاح جلد متوقع ہے۔ یہاں قیادت کا فرق نمایاں طور پر دکھائی دیتا ہے۔ آئی جی پنجاب ڈاکٹر عثمان انور کی کارکردگی محض عمارتوں تک محدود نہیں بلکہ پورے پولیس نظام کی بحالی اور حوصلہ افزائی پر محیط ہے۔ افسران اور اہلکاروں کی بروقت ترقیاں، سرکاری رہائش گاہوں کی فراہمی، شہداء کے ورثاء کے لیے معیاری گھروں کی اسکیمیں، غازیوں کے لیے فوری مالی امداد، اور علاج معالجے کی مکمل سہولتیں اب محض اعلانات نہیں رہیں بلکہ عملی شکل اختیار کر چکی ہیں۔
    پنجاب پولیس کے اہلکاروں کے بچوں کے لیے بھی خصوصی فلاحی اقدامات کیے گئے ہیں۔ سماعت سے محروم بچوں کو معیاری آلاتِ سماعت، معذور بچوں کو الیکٹرک وہیل چیئرز، اور تھیلیسیمیا میں مبتلا بچوں کو خون اور مکمل طبی سہولتیں فراہم کی جا رہی ہیں۔ افسران، اہلکاروں اور کلیریکل اسٹاف کے لیے پوش علاقوں میں رہائشی منصوبے بھی زیرِ تعمیر ہیں، جو ادارے کے اندر اعتماد اور وابستگی کو مضبوط کر رہے ہیں۔

    اب ذرا ماضی کی ایک تلخ مگر سبق آموز تصویر دیکھیں۔ ایک دور کے آئی جی پنجاب قصور میں اپنے فارم ہاؤس پر عدلیہ کی چند اہم شخصیات کو بغیر کسی پروٹوکول کے لے گئے۔ واپسی پر فیروز پور روڈ کے للیانی ناکے پر ایک اہلکار نے گاڑی روک کر گزرنے کے لیے 100 روپے مانگ لیے۔ یہ سن کر سب حیران رہ گئے۔ تب عدلیہ کی ایک شخصیت نے 100 روپے فوری دے دئیے جب آئی جی نے اپنا تعارف کروایا اور معطلی کی بات کی تو اہلکار نے معصومیت سے کہ “باپ نے بیٹے کو 100 روپے دیے ہیں، اس میں کیا غلط ہے؟” یہ جملہ سب کو خاموش کر گیا اور معاملہ بدنامی کے خوف سے دبا دیا گیا۔
    اسی طرح ایک اور واقعہ بھی یاد آتا ہے۔ انتہائی شریف النفس سابق ڈی آئی جی انوسٹی گیشن لاہور کے دفتر میں مہمان آ گئے۔ خاطر تواضع کے لیے اسوقت کے ہالیڈے ان ہوٹل سے چائنیز کھانے کا نام لیکر لانے کا بولا ۔جو ملازم بھجوایا اسے سمجھ نہیں آئی کافی دیر بعد وہ اہلکار کندھے پر کارٹن اٹھائے دفتر میں داخل ہوا۔ سب نے سکھ کا سانس لیا، ڈی آئی جی آفس میں کارٹن لیجایا گیا تو ڈی آئی جی نے دریافت کیا یہ کیا لے آئے تو سٹاف نے جب بتایا تو دفتر میں چند لمحے سناٹا چھا گیا۔ڈی آئی جی نے ڈانٹ ڈپٹ کی یہ واقعہ ہنسی کا باعث بھی بنا اور اس بات کی نشاندہی بھی کہ نظام میں چھوٹی سی غلطی بھی بڑے سوال کھڑے کر دیتی ہے۔
    یہ تمام واقعات ہمیں ایک ہی بات سکھاتے ہیں
    مسئلہ وردی یا عہدے کا نہیں، مسئلہ نیت، نگرانی اور قیادت کا ہے۔ آج پنجاب پولیس میں سخت سرویلنس، فوری کارروائی اور واضح سمت نظر آتی ہے۔ حال ہی میں راوی روڈ پر ایک اہلکار کی جانب سے اللہ کا نام لے کر رشوت لینے کی ویڈیو وائرل ہوئی تو فوراً گرفتاری ہوئی اور مقدمہ درج کیا گیا۔ یہی فرق ہے کل اور آج میں۔
    یہ کالم کسی ایک افسر کی تعریف نہیں، بلکہ ایک سوچ کی حمایت ہے وہ سوچ جس میں فائل نہیں رُکتی، انصاف نہیں بکتا اور ادارہ اپنے لوگوں کا خیال رکھتا ہے۔ کیونکہ جب نیت درست ہو تو نظام خود بخود چلنے لگتا ہے۔

    Related Posts

    قبل از گرفتاری ضمانت   خارج گیپکو سب ڈویژن ہیڈ مرالہ کے ایگزیکٹو ایکسیئن گرفتار

    پولیس مقابلے میں اپنے ہی ساتھیوں کی فائرنگ سے راہزن ہلاک

    جلال پور پیر والا: موٹرسائیکل کو بچا تے ہوئے گاڑی  نہر میں جا گيری

    مقبول خبریں

    ٹیم انڈیا کے چار زخمی کھلاڑیوں میں سے تین فٹ، ایک کھلاڑی اسکواڈ سے باہر

    کرینہ کپور کا بالی ووڈ پر بڑا بیان، اینمل کی مثال دے کر فلم انڈسٹری کو کیا کہا

    غزہ ، اسرائیلی فضائی حملہ، بچوں سمیت 4 افراد ہلاک

    بہت گرم چائے اور کافی سے غذائی نالی کے کینسر کا خطرہ بڑھ سکتا ہے، آکسفورڈ یونیورسٹی کی اہم تحقیق

    قبل از گرفتاری ضمانت   خارج گیپکو سب ڈویژن ہیڈ مرالہ کے ایگزیکٹو ایکسیئن گرفتار

    بلاگ

    ملک غلام حسن سلہال — خدمت، شرافت اور عوامی وابستگی کی روشن مثال

    تین سالہ معطلی یا انصاف کا انتظار؟ — جب احتساب، خود ایک سزا بن جائے.

    ”ہنی ٹریپ کرتی انٹی کرپشن کا احتساب کب ہوگا ؟ “ ملک محمد سلمان کا کالم

    لاہور پریس کلب میں عشقِ رسول ﷺ کی خوشبو — خواتین صحافیوں کی یادگار محفلِ میلاد

    ناہید طالب: فن، صلاحیت اور خدمت کا روشن استعارہ

    Facebook Twitter Instagram Pinterest
    • Disclaimer
    • Terms & Conditions
    • Contact Us
    • privacy policy
    Copyright © 2024 All Rights Reserved Benaqab Tv Network

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.