تحریر:اسد مرزا
جہاں لفظ بے نقاب ہوں۔۔۔ وہیں سے سچ کا آغاز ہوتا ہے
یہ تحریر ہمارے نظامِ حکومت اور پولیس کلچر کی ایک واضح تصویر پیش کرتی ہے۔ ایسی تصویر جو کبھی مسکرا دیتی ہے، کبھی سوچنے پر مجبور کرتی ہے اور کبھی دل پر بوجھ بن جاتی ہے۔
سیالکوٹ جیسے مہنگے اور حساس شہر میں ایک وقت ایسا بھی رہا جب وہاں کے تین اہم پولیس اسٹیشنز کی حالت ناگفتہ بہ تھی۔ مختلف ادوار میں ان کی تعمیرِ نو کے لیے فائلیں بنتی رہیں، خطوط لکھے گئے، نوٹس لگے، سفارشات ہوئیں، مگر عملی پیش رفت نہ ہو سکی۔ وقت گزرتا گیا، افسران بدلتے گئے، مگر فائلیں دفاتر میں ہی دبی رہیں۔ بعد ازاں جب سیالکوٹ میں نیا انتظامی سیٹ اپ آیا تو ان پولیس اسٹیشنز کا ازسرِنو جائزہ لیا گیا۔ سیالکوٹ انٹرنیشنل ایئرپورٹ پولیس اسٹیشن، نیکاپور اور اگوکی پولیس اسٹیشن کی عمارتیں اس حد تک خستہ ہو چکی تھیں کہ دفاتر، حوالات اور عملے کے لیے بنیادی سہولتیں بھی ناکافی تھیں۔ ان حالات میں روایتی فائل ورک کے بجائے معاملہ اعلیٰ سطح پر مؤثر انداز میں پیش کیا گیا۔ اصل فیصلہ کن موڑ اس وقت آیا جب یہ معاملہ براہِ راست اس وقت کے ڈی پی او حسن اقبال آئی جی پنجاب ڈاکٹر عثمان انور کے علم میں لائے ۔ زمینی حقائق سامنے رکھے گئے تو آئی جی صاحب نے محض رسمی ہدایات پر اکتفا نہیں کیا بلکہ عملی قدم اٹھایا۔ چند ہی گھنٹوں میں ڈپٹی کمشنر اور بورڈ آف ریونیو کے متعلقہ حکام متحرک ہوئے اور تینوں پولیس اسٹیشنز کے لیے ایک ایک کنال زمین فراہم کر دی گئی۔ برسوں سے رکی ہوئی فائل ایک واضح قیادت کے ایک فیصلے سے حرکت میں آ گئی۔ آج انہی مقامات پر جدید اور معیاری پولیس اسٹیشنز تعمیر ہو چکے ہیں، جن کا افتتاح جلد متوقع ہے۔ یہاں قیادت کا فرق نمایاں طور پر دکھائی دیتا ہے۔ آئی جی پنجاب ڈاکٹر عثمان انور کی کارکردگی محض عمارتوں تک محدود نہیں بلکہ پورے پولیس نظام کی بحالی اور حوصلہ افزائی پر محیط ہے۔ افسران اور اہلکاروں کی بروقت ترقیاں، سرکاری رہائش گاہوں کی فراہمی، شہداء کے ورثاء کے لیے معیاری گھروں کی اسکیمیں، غازیوں کے لیے فوری مالی امداد، اور علاج معالجے کی مکمل سہولتیں اب محض اعلانات نہیں رہیں بلکہ عملی شکل اختیار کر چکی ہیں۔
پنجاب پولیس کے اہلکاروں کے بچوں کے لیے بھی خصوصی فلاحی اقدامات کیے گئے ہیں۔ سماعت سے محروم بچوں کو معیاری آلاتِ سماعت، معذور بچوں کو الیکٹرک وہیل چیئرز، اور تھیلیسیمیا میں مبتلا بچوں کو خون اور مکمل طبی سہولتیں فراہم کی جا رہی ہیں۔ افسران، اہلکاروں اور کلیریکل اسٹاف کے لیے پوش علاقوں میں رہائشی منصوبے بھی زیرِ تعمیر ہیں، جو ادارے کے اندر اعتماد اور وابستگی کو مضبوط کر رہے ہیں۔

اسی طرح ایک اور واقعہ بھی یاد آتا ہے۔ انتہائی شریف النفس سابق ڈی آئی جی انوسٹی گیشن لاہور کے دفتر میں مہمان آ گئے۔ خاطر تواضع کے لیے اسوقت کے ہالیڈے ان ہوٹل سے چائنیز کھانے کا نام لیکر لانے کا بولا ۔جو ملازم بھجوایا اسے سمجھ نہیں آئی کافی دیر بعد وہ اہلکار کندھے پر کارٹن اٹھائے دفتر میں داخل ہوا۔ سب نے سکھ کا سانس لیا، ڈی آئی جی آفس میں کارٹن لیجایا گیا تو ڈی آئی جی نے دریافت کیا یہ کیا لے آئے تو سٹاف نے جب بتایا تو دفتر میں چند لمحے سناٹا چھا گیا۔ڈی آئی جی نے ڈانٹ ڈپٹ کی یہ واقعہ ہنسی کا باعث بھی بنا اور اس بات کی نشاندہی بھی کہ نظام میں چھوٹی سی غلطی بھی بڑے سوال کھڑے کر دیتی ہے۔
یہ تمام واقعات ہمیں ایک ہی بات سکھاتے ہیں
مسئلہ وردی یا عہدے کا نہیں، مسئلہ نیت، نگرانی اور قیادت کا ہے۔ آج پنجاب پولیس میں سخت سرویلنس، فوری کارروائی اور واضح سمت نظر آتی ہے۔ حال ہی میں راوی روڈ پر ایک اہلکار کی جانب سے اللہ کا نام لے کر رشوت لینے کی ویڈیو وائرل ہوئی تو فوراً گرفتاری ہوئی اور مقدمہ درج کیا گیا۔ یہی فرق ہے کل اور آج میں۔
یہ کالم کسی ایک افسر کی تعریف نہیں، بلکہ ایک سوچ کی حمایت ہے وہ سوچ جس میں فائل نہیں رُکتی، انصاف نہیں بکتا اور ادارہ اپنے لوگوں کا خیال رکھتا ہے۔ کیونکہ جب نیت درست ہو تو نظام خود بخود چلنے لگتا ہے۔


