بیجنگ/لندن : برطانیہ اور چین کے درمیان برسوں سے جاری سفارتی سرد مہری کے خاتمے کے لیے برطانوی وزیرِ اعظم کیئر سٹارمر بدھ کے روز بیجنگ پہنچ گئے ہیں۔ 2018 کے بعد یہ کسی بھی برطانوی وزیرِ اعظم کا پہلا دورہٴ چین ہے، جسے عالمی سیاست اور برطانیہ کی ڈگمگاتی معیشت کے لیے انتہائی اہمیت کا حامل قرار دیا جا رہا ہے۔
British Prime Minister Keir Starmer arrived in Beijing on January 28 for an official visit to China through January 31.https://t.co/yOfReyxhi1 pic.twitter.com/hOkjEY1dGu
— CCTV+ (@CCTV_Plus) January 28, 2026
کیئر سٹارمر کا یہ دورہ ایک ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی غیر متوقع پالیسیوں اور ٹیرف کی دھمکیوں نے واشنگٹن کے اپنے روایتی مغربی اتحادیوں کے ساتھ تعلقات کو متزلزل کر دیا ہے۔ اس صورتحال میں برطانیہ، فرانس اور کینیڈا جیسے ممالک چین کے ساتھ اپنے روابط کو ازسرِ نو استوار کر رہے ہیں۔ چینی صدر شی جن پنگ کے لیے بھی یہ دورہ خود کو ایک "قابلِ اعتماد عالمی شراکت دار” کے طور پر پیش کرنے کا بہترین موقع ہے۔
اقتصادی ایجنڈا اور 60 کاروباری شخصیات کا وفد
کیئر سٹارمر، جو اس وقت برطانیہ میں اپنی مقبولیت میں ریکارڈ کمی کا سامنا کر رہے ہیں، کو امید ہے کہ یہ دورہ برطانوی معیشت کو سہارا دے گا۔ ان کے ہمراہ مالیات (Finance)، دواسازی (Pharma)، اور آٹوموبائل کے شعبوں سے تعلق رکھنے والے تقریباً 60 صفِ اول کے کاروباری رہنما بھی موجود ہیں۔
مقصد: سرمایہ کاری کا حصول اور برطانیہ کے تیسرے بڑے تجارتی شراکت دار (چین) کے ساتھ تجارت کا فروغ۔
توازن: ڈاؤننگ سٹریٹ کا کہنا ہے کہ جہاں تجارت پر بات ہوگی، وہیں قومی سلامتی اور انسانی حقوق جیسے حساس مسائل کو بھی اٹھایا جائے گا۔
چین روانگی کے دوران طیارے میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیئر سٹارمر نے واضح کیا کہ وہ چین کے ساتھ حقیقت پسندانہ تعلقات چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا:
"چین کے معاملے میں ریت میں سر چھپانا دانشمندانہ نہیں۔ یہ ہمارے قومی مفاد میں ہے کہ ہم اپنی سلامتی پر سمجھوتہ کیے بغیر چین سے روابط رکھیں۔”
سفارتی مصروفیات کا شیڈول
جمعرات: صدر شی جن پنگ کے ساتھ باضابطہ ظہرانہ اور وزیرِ اعظم لی چیانگ سے ملاقات۔
چین کے بعد سٹارمر جاپان جائیں گے جہاں وہ جاپانی وزیرِ اعظم سانائے تاکائچی سے ملاقات کریں گے۔
یاد رہے کہ 2020 میں ہانگ کانگ میں سیکورٹی قوانین کے نفاذ اور اس کے بعد جاسوسی کے الزامات نے دونوں ممالک کے تعلقات کو نچلی ترین سطح پر پہنچا دیا تھا۔ حال ہی میں ڈاؤننگ سٹریٹ کے حکام کے فون ہیک ہونے کی خبریں بھی سامنے آئی تھیں، تاہم سٹارمر نے ان دعوؤں کی تردید کرتے ہوئے مذاکرات کو ترجیح دی ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق، کیئر سٹارمر کا یہ قدم ایک "سفارتی جوا” بھی ہو سکتا ہے۔ ایک طرف انہیں معیشت کے لیے چین کی ضرورت ہے، تو دوسری طرف انہیں برطانیہ کے اندر ان حلقوں کو بھی مطمئن کرنا ہے جو چین پر انسانی حقوق اور جاسوسی کے حوالے سے سخت تنقید کرتے ہیں۔

