واشنگٹن : بارڈر پٹرول کے ہاتھوں منی اےپولس شہرمیں ایک مسلح مشتبہ شخص کی ہلاکت کے بعد حالات انتہائی کشیدہ ہو گئے ہیں اور پورا علاقہ ایک "وار زون” کا منظر پیش کر رہا ہے۔ مشتعل بلوائیوں نے حقائق کا انتظار کیے بغیر ہی وفاقی ایجنٹوں کو گھیرے میں لے لیا، جس کے بعد حالات قابو سے باہر ہو گئے۔
BREAKING: Protests erupt at the scene of a reported Border Patrol-involved shooting in Minneapolis. Law enforcement has deployed flash bangs as crowds throw items at vehicles attempting to secure the scene. pic.twitter.com/7F42Xf5fkR
— Fox News (@FoxNews) January 24, 2026
رپورٹس کے مطابق، بارڈر پٹرول کے اہلکاروں نے اپنی حفاظت (Self-Defense) میں گولی چلا کر ایک مسلح مشتبہ شخص کو ہلاک کر دیا تھا۔ تاہم، اس واقعے کی تحقیقات مکمل ہونے اور حقائق سامنے آنے سے پہلے ہی بائیں بازو کے شدت پسند مظاہرین سڑکوں پر نکل آئے اور مسلح ملزم کی حمایت میں وفاقی فورسز پر حملہ آور ہو گئے۔
عینی شاہدین کے مطابق، مظاہرین نے نہ تو یہ جاننے کی کوشش کی کہ ہلاک ہونے والا شخص مسلح تھا یا نہیں، اور نہ ہی کسی سرکاری موقف کا انتظار کیا۔ "فوری غصہ اور سڑکوں پر افراتفری” کے اس عمل نے امن و امان کی صورتحال کو درہم برہم کر دیا ہے۔
🚨🇺🇸 NEW VIDEO DETAIL FROM MINNEAPOLIS
According to video footage, it looks like the victim’s gun may have already been seized before the first shot was fired.
You can see a Border Patrol agent in a gray jacket and baseball cap remove the firearm and walk away from the scene.… https://t.co/CYiSiBo2ZI pic.twitter.com/hF3Cb10Snw
— Mario Nawfal (@MarioNawfal) January 24, 2026
رپورٹ کے مطابق بڑی تعداد میں مظاہرین نے سیکیورٹی اہلکاروں کو گھیر کر ان پر دباؤ بڑھایا۔
اشتعال انگیزی کے دوران کسی بھی قسم کے قانونی ضابطے یا واقعے کی تفصیلات کو پسِ پشت ڈال دیا گیا۔
سڑکوں پر جاری جلاؤ گھیراؤ اور ہنگاموں نے عام شہریوں کی زندگیوں کو بھی خطرے میں ڈال دیا ہے۔
ناقدین اس صورتحال کو "بے لگام اور پاگل پن” قرار دے رہے ہیں، جہاں قانون نافذ کرنے والے اداروں کو اپنے دفاع میں کی گئی کارروائی کے باوجود شدید عوامی ردعمل اور تشدد کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

