تہران: ایران میں تقریباً دو ہفتوں سے جاری مظاہروں نے شدت اختیار کر لی ہے اور احتجاج پرتشدد ہوگئے ہیں۔
مظاہرین ملک کے سپریم لیڈر خامنہ ای کے خلاف نعرے لگا رہے ہیں۔ ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر ایران کو دھمکی دی ہے۔ ایرانی انسانی حقوق کی غیر سرکاری تنظیموں کا کہنا ہے کہ دسمبر کے آخر میں شروع ہونے والے مظاہروں کے بعد سے کم از کم 45 مظاہرین ہلاک ہو چکے ہیں۔ امریکہ میں قائم ہیومن رائٹس ایکٹوسٹ نیوز ایجنسی نے کہا کہ اب تک 2,270 سے زیادہ افراد کو حراست میں لیا گیا ہے۔
ایرانی کرنسی مسلسل گر رہی ہے اور مہنگائی آسمان چھو رہی ہے۔ جمعرات کی رات دیر گئے، مظاہروں میں اس وقت اضافہ ہوا جب جلاوطن ولی عہد شہزادہ رضا پہلوی نے لوگوں سے اسلامی جمہوریہ کے خلاف سخت مظاہرہ کرنے کی اپیل کی۔ اس اپیل کے بعد لوگ سڑکوں پر نکل آئے اور ریلیاں نکالیں۔ دریں اثناء حکومت نے بگڑتی ہوئی صورتحال پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے سکیورٹی فورسز کو صورتحال پر قابو پانے کا حکم دیا۔ انسانی حقوق کی تنظیموں نے ایرانی سکیورٹی فورسز پر مظاہرین پر فائرنگ کا الزام عائد کیا ہے۔
ایران میں مہنگائی کے خلاف پر تشدد احتجاج، اب تک 45 مظاہرین ہلاک، ٹیلی فون، انٹرنیٹ منقطع

