واشنگٹن :وائٹ ہاؤس کی جانب سے جاری ہونے والے ایک حالیہ بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ گرین لینڈ کے حصول کے حوالے سے ’متعدد آپشنز‘ پر بات کر رہے ہیں، جس میں فوج کا استعمال بھی شامل ہے۔
وائٹ ہاؤس نے بی بی سی کو مزید بتایا کہ نیٹو کے رکن ملک ڈنمارک کے نیم خودمختار علاقے گرین لینڈ کا حصول ’قومی سلامتی کی ترجیح‘ ہے۔
منگل کے روز وائٹ ہاؤس نے کہا کہ ’صدر اور ان کی ٹیم خارجہ پالیسی کے اس اہم ہدف کو حاصل کرنے کے لیے بہت سے آپشنز پر تبادلہ خیال کر رہی ہے اور یقیناً امریکی فوج کا استعمال ہمیشہ کمانڈر انچیف کے پاس ایک آپشن ہوتا ہے۔‘
سنہ 2025 کے آغاز میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے آرکٹک میں ڈنمارک کے ایک خودمختار علاقے اور دنیا کے سب سے بڑے جزیرے گرین لینڈ کو امریکہ کا حصہ بنانے میں نئی دلچسپی ظاہر کی تھی۔
انھوں نے سب سے پہلے بطور صدر اپنی پہلی مدت کے دوران 2019 میں گرین لینڈ خریدنے کا ارادہ ظاہر کیا لیکن اس مرتبہ انھوں نے ایک قدم آگے بڑھایا اور گرین لینڈ پر کنٹرول حاصل کرنے کے لیے امریکہ کی اقتصادی طاقت یا فوجی استعمال کرنے کے امکان کو مسترد نہیں کیا۔
تاہم ڈینش اور یورپی حکام نے ٹرمپ کی خواہشات کا جواب یہ کہہ کر دیا ہے کہ ’گرین لینڈ برائے فروخت نہیں ہے اور اس کی علاقائی سالمیت کا تحفظ ضروری ہے۔‘
گرین لینڈ کے وزیر اعظم میوٹ ایگیڈ نے گزشتہ ماہ واضح طور پر کہا تھا کہ گرین لینڈ اس کے لوگوں کا ہے اور یہ برائے فروخت نہیں ہے۔
واضح رہے کہ ٹرمپ نے سات جنوری 2026 کو ایک پریس کانفرنس کے دوران یہ تک کہا تھا کہ وہ گرین لینڈ کا کنٹرول حاصل کرنے کے لیے عسکری طاقت کے استعمال پر بھی غور کر سکتے ہیں۔ انھوں نے کہا تھا کہ گرین لینڈ کی ضرورت معاشی وجوہات کی وجہ سے ہے۔
امریکا نے گرین لینڈ بزور طاقت لینے کی ٹھان لی، فوج کے استعمال سمیت متعدد آپشنز پر غورکررہے ہیں،وائٹ ہاؤس

