کرک(بے نقاب نیوز )ضلع کرک میں غیر قانونی سونے کی کان کنی کے خلاف بڑا اقدام، دفعہ 144 نافذ. ڈپٹی کمشنر کرک اسد سرور نے غیر قانونی پلاسر گولڈ (سونے) کی کان کنی کی روک تھام کے لیے اہم قدم اٹھاتے ہوئے تھانہ صابر آباد کی حدود میں دفعہ 144 نافذ کر دی ہے، جس کے تحت ایکسکیویٹرز (بھاری مشینری) کی موجودگی اور پارکنگ پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ یہ پابندی ساٹھ (60) دن کے لیے نافذ العمل ہو گی۔
ڈپٹی کمشنر کی جانب سے جاری کردہ حکم نامے کے مطابق ضلعی انتظامیہ کے علم میں یہ بات آئی تھی کہ بعض افراد اور گروہ رہائشی علاقوں میں ایکسکیویٹرز کھڑے کر کے انہیں غیر قانونی سونے کی کان کنی کے لیے استعمال کر رہے ہیں، جس سے نہ صرف سرکاری مفادات کو نقصان پہنچ رہا ہے بلکہ امن و امان کی صورتحال بھی متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔
حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ ضلعی انتظامیہ کی جانب سے غیر قانونی کان کنی کے خلاف متعدد کارروائیوں کے باوجود رہائشی علاقوں میں بھاری مشینری کی موجودگی ان سرگرمیوں کو فروغ دے رہی ہے، جو عوامی سلامتی اور ریاستی مفاد کے لیے سنگین خطرہ ہے۔ اس صورتحال کے پیش نظر غیر قانونی سرگرمیوں کے سدباب کے لیے سخت اور فوری اقدامات ناگزیر ہو چکے تھے۔
ڈپٹی کمشنر اسد سرور نے ضابطہ فوجداری 1898 کی دفعہ 144 کے تحت اپنے اختیارات استعمال کرتے ہوئے تھانہ صابر آباد، ضلع کرک کی حدود میں ایکسکیویٹرز کی موجودگی اور پارکنگ پر پابندی عائد کی ہے۔ حکم نامے کے مطابق اس پابندی کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف تعزیرات پاکستان کی دفعہ 188 کے تحت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
مزید کہا گیا ہے کہ یہ حکم فوری طور پر نافذ العمل ہو گا اور مقررہ مدت تک برقرار رہے گا، تاہم ضرورت پڑنے پر اس میں ترمیم یا منسوخی بھی کی جا سکتی ہے۔ عوام الناس کو آگاہ کرنے کے لیے اس فیصلے کی تشہیر ڈھول کی تھاپ، سرکاری گزٹ، پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کے ذریعے کی جائے گی۔
ضلعی انتظامیہ نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ قانون کی پاسداری کریں اور غیر قانونی کان کنی جیسی سرگرمیوں سے اجتناب کرتے ہوئے انتظامیہ کے ساتھ تعاون کریں تاکہ ضلع میں امن و امان اور قدرتی وسائل کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔

