دبئی، متحدہ عرب امارات: ایران کی خراب ہوتی اقتصادی صورتحال اور مہنگائی کے خلاف ایرانی عوام کا ایک طبقہ اب بھی سڑکوں پر ہے۔ ان مظاہروں میں کم از کم 35 افراد کی ہلاکت کا دعویٰ کیا جارہا ہے۔
امریکا ایران میں جاری مظاہروں پر نظر رکھے ہوئے ہے۔ صدر ٹرمپ وقتاً فوقتاً ایران کو اینٹ سے اینٹ بجا دینے کی دھمکی بھی دیتے رہتے ہیں۔
ہلاکتوں اور گرفتاریوں کے یہ اعداد و شمار بھی امریکا میں قائم ہیومن رائٹس ایکٹوسٹ نیوز ایجنسی کی جانب سے سامنے آئے ہیں۔ ایجنسی کے مطابق ایک ہفتے سے زائد عرصے سے جاری مظاہروں میں 1200 سے زائد افراد کو حراست میں لیا گیا ہے۔
اس میں کہا گیا ہے کہ 29 مظاہرین، چار بچے اور ایران کی سیکورٹی فورسز کے دو ارکان اب تک ہلاک ہو چکے ہیں۔ ایجنسی کا دعویٰ ہے کہ ایران کے 31 میں سے 27 صوبوں میں جاری مظاہرے 250 سے زیادہ مقامات تک پہنچ چکے ہیں۔
ہیومن رائٹس ایکٹوسٹ نیوز ایجنسی اپنی رپورٹنگ کے لیے ایران کے اندر ایک سرگرم نیٹ ورک پر انحصار کرتی ہے۔ اس کے اعداد وشمار ماضی میں ہوئیں بدامنی میں بالکل درست ثابت ہوئے ہیں۔
دوسری جانب ایران کی نیم سرکاری فارس نیوز ایجنسی، جسے ایران کے نیم فوجی پاسداران انقلاب کے قریب سمجھا جاتا ہے، نے پیر کو دیر گئے اطلاع دی کہ مظاہروں میں تقریباً 250 پولیس افسران اور گارڈ کی رضاکار بسیج فورس کے 45 ارکان زخمی ہوئے ہیں۔
مظاہروں میں ہلاکتوں کی بڑھتی ہوئی تعداد ان میں امریکی مداخلت کا امکان پیدا کررہی ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعے کے روز ایران کو خبردار کرتے ہوئے کہا تھا کہ اگر تہران پرامن مظاہرین کو پرتشدد طریقے سے دبانے کی کوشش کرتا ہے تو امریکا ان (مظاہرین) کے بچاؤ کے لیے آئے گا۔

